کتاب: جنازے کے مسائل - صفحہ 5
تعزیت کے بعد تعزیت سے بھی اہم مرحلہ ایصال ثواب کا ہے۔ ہر مسلمان مرد یا عورت ، عالم ہو یا جاہل یہ عقیدہ بہرحال رکھتا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کو اپنے اعمال کی جزا یا سزا ضرور ملتی ہے،لہٰذا ہر آدمی اپنے فوت شدہ اعزّہ کو کسی نہ کسی طرح ثواب پہنچانا ضروری سمجھتاہے ۔ مسلمانوں کی اکثریت اپنے معاشرے اور ماحول میں ایصال ثواب کے لئے جو کچھ ہوتا دیکھتی ہے اسے کرنا شروع کردیتی ہے ۔ مثلاً رسم قل ، رسم فاتحہ، رسم سوئم ، ساتوں ، دسواں ، گیارہواں ، بیسواں ، چالیسواں ، میت کے گھربڑے کھانے کا اہتمام ، قرآن خوانی کا اہتما م ، برسی منانا ، قبر پر کھانا یا مٹھائی وغیرہ لے جا کر تقسیم کرنا وغیرہ ، کسی کو اس بات پر سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ ان تمام مروجہ اعمال و افعال کا دین کے ساتھ کوئی تعلق ہے بھی یا نہیں یا یہ تمام افعال محض جہالت ، عجمی تصورات اور ہندوانہ رسومات سے متاثر ہو کر ہم نے اختیار کر رکھے ہیں۔ ایصال ثواب کے یہ طریقے اپنا کر لواحقین اپنے طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے مرنے والے کے ساتھ اپنے تعلق ، محبت اور عقیدت کاپورا پورا حق ادا کردیا ہے اور انہیں یہ بھی اطمینان ہوجاتا ہے کہ کم از کم سال بھر کے لئے تو ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہو ہی گئے ہیں۔ سب سے آخر میں زیارت قبور کا مرحلہ آتا ہے، قبروں پر مزار اور قبے تعمیر کرنا ، عرس اور میلے لگانا ، چراغاں کرنا، پھولوں کی چادریں چڑھانا ، قبروں کو غسل دینا ، قبر کے نزدیک یا دُور باادب ہاتھ باند ھ کر کھڑے ہونا، قبر پر جھکنا ، سجدہ کرنا، قبر یا مزار کو بوسہ دینا ، قبر یا مزار کا طواف کرنا، قبر پر بیٹھ کر تلاوت کرنا یا نماز پڑھنا ، اہل قبور کے سامنے اپنی حاجات اور مشکلات پیش کرنا، انہیں حاجت روا سمجھ کر مرادیں مانگنا ، نیز ان سے دعا کی درخواست کرنا ، یہ وہ سارے غیر مسنون افعال ہیں ، جن کا تعلق زیارت قبور سے ہے اور مسلمانوں کی کثیر تعداد ثواب اور اجر کی نیت سے انہیں کئے جارہی ہے۔ زیارت قبور کے سلسلے میں اس افسوسناک حقیقت سے کون واقف نہیں کہ وطن عزیز کے صوبہ سندھ میں ’’لواری‘‘ کے مقام پر ایک مزار ایسا بھی ہے جہاں سال بہ سال حج ادا کیا جاتاہے۔ مزار کا طواف کرنے کے بعد باقاعدہ قربانی دی جاتی ہے۔[1] یہ ’’اعزاز‘‘ بھی نظریاتی بنیادوں پر قائم ہونے والی دنیا کی واحد ریاست ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘کو حاصل ہے کہ اس کے ایک شہر پاکپتن (ضلع ساہیوال) میں ایسا مزار بھی موجود ہے جہاں اللہ کے ایک نیک اور صالح بندے کی قبر پر مزار کے ساتھ بہشتی دروازہ (باب جنت) تعمیرکیا گیا ہے جو سال بہ سال زائرین کے لئے کھولا جاتا ہے، ایک طرف نذرانے پیش کئے جاتے ہیں اور دوسری طرف جنت کی ضمانتیں مہیا فرمائی جاتی ہیں۔ عام آدمی سے لے کر امراء اور وزراء تک سب کے سب آنکھیں بند کرکے دونوں ہاتھوں سے دین و دنیا کی دولت اس ایمان اور یقین کے ساتھ لٹاتے چلے جاتے ہیں کہ ہم نے ’’باب
[1] کچھ عرصہ قبل حکومت پاکستان نے اس پرپابندی لگا دی تھی لیکن نظام جاہلیت کے محافظوں اور علمبرداروں نے اس کے خلاف عدالت میں رٹ دائر کر رکھی ہے