کتاب: جنازے کے مسائل - صفحہ 17
شخص کسی مریض کی بیمار پرسی کرے اور سات مرتبہ یہ کلمات کہے ’’میں عرش عظیم کے مالک بزرگ و بَرتَر اللہ کی ذات سے تیرے لئے شفا کا سوال کرتا ہوں ،۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ اسے شفا دیتا ہے بشرطیکہ اس کی موت کا وقت نہ ہو۔‘‘ اسے ابوداؤ دنے روایت کیا ہے۔ مسئلہ6 بیماری میں ناشکری کے الفاظ منہ سے نہیں نکالنے چاہئیں۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم دَخَلَ عَلٰی أَعْرَابِیٍّ یَعُوْدُہٗ قَالَ وَ کَانَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم إِذَا دَخَلَ عَلٰی مَرِیْضٍ یَعُوْدُہٗ ، قَالَ ((لاَ بَأْسَ طَہُوْرٌ اِنْ شَائَ اللّٰہُ )) فَقَالَ لَہٗ (( لاَ بَأْسَ طَہُوْرٌ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی )) قَالَ : قُلْتُ طَہُوْرٌ ، کَلاَّ بَلْ ہِیَ حُمّٰی تَفُوْرُ أَوْ تَثُوْرُ عَلٰی شَیْخٍ کَبِیْرٍ تُزِیْرُہُ الْقُبُوْرَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم ((فَنَعَمْ إِذًا)) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[1] حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بدّو کی عیادت کے لئے تشریف لائے ۔ بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ جب کسی مریض کی عیادت کے لئے تشریف لاتے تو فرماتے ’’فکر نہ کر یہ بیماری تمہیں گناہوں سے ان شاء اللہ پاک کردے گی۔‘‘ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بدو کی بھی (عیادت کے وقت) فرمایا ’’فکر نہ کر یہ بیماری تمہیں ان شاء اللہ ! گناہوں سے پاک کردے گی۔‘‘ بدو نے کہا ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں گناہوں سے پاک کردے گی ، ہر گز نہیں بلکہ یہ بخار تو بوڑھے کھوسٹ پر جوش مارتا ہے یا زور ماررہا ہے ، جو اسے قبر تک پہنچا کرہی چھوڑے گا۔‘‘ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اچھا تو ایسے ہی سہی۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ7 بیمار پرسی کے وقت مریض کے پاس تسلی اور حوصلہ دلانے والی باتیں کرنی چاہئیں۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ((إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِیْضَ أَوِ الْمَیِّتَ فَقُوْلُوْا خَیْرًا فَإِنَّ الْمَلاَ ئِکَۃَ یُؤَمِّنُوْنَ عَلٰی مَا تَقُوْلُوْنَ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ [2] حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب تم مریض کے پاس یا مرنے والے کے پاس جاؤ تو بھلی بات کہو کیونکہ جو کچھ تم کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 8 بیماری کو برا نہیں کہنا چاہئے۔ مسئلہ 9 بیماریاں اور تکلیفیں مسلمانوں کو گناہوں سے پاک کرنے اور درجات بلند کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ [1] مختصر صحیح بخاری ، للزبیدی ، رقم الحدیث 1511 [2] مختصرصحیح مسلم ، للالبانی ، رقم الحدیث 402