کتاب: جہنم کا بیان - صفحہ 224
عَنْ جَابِرٍ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (( یُعَذِّبُ نَاسٌ مِنْ اَہْلِ التَّوْحِیْدِ فِی النَّارِ حَتّٰی یَکُوْنُوْا فِیْہَا حُمَمًا ثُمَّ تَدْرِکْہُمُ الرَّحْمَۃُ فَیُخْرَجُوْنَ وَ یُطْرَحُوْنَ عَلٰی اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ قَالَ فِیُرُشُّ عَلَیْہِمْ اَہْلُ الْجَنَّۃِ الْمَائََ فَیَنْبِتُوْنَ کَمَا یَنْبُتُ الْغُثَآئُ فِی حِمَالَۃِ السَّیْلِ ، ثُمَّ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ )) روَاہُ التِّرْمِذِیُّ[1] (صحیح)
حضرت جابررضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اہل توحید میں سے (بعض ( لوگ آگ کا عذاب دیئے جائیں گے یہاں تک کہ وہ آگ میں (جل کر) کوئلہ بن جائیں گے پھر انہیں رحمت الٰہی کا فیض حاصل ہوگا اور وہ جہنم سے نکالے جائیں گے جنت کے دروازوں پر لا کر بٹھائے جائیں گے ۔ اہل جنت ان پر پانی ڈالیں گے اور وہ (نئے سرے سے) یوں اٹھ کھڑے ہوں گے جیسے کوئی دانہ سیلاب (کے پانی ) کے بعد (فورے)نکل آتا ہے پھر وہ جنت میں داخل کئے جائیں گے۔‘‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔
مسئلہ 356: سمندر ہی جہنم کی جگہ ہے۔
عَنْ یَعْلٰی رضی اللّٰہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ((اِنَّ الْبَحْرَ ہُوَ جَہَنَّمُ )) روَاہُ الْحَاکِمُ [2] (صحیح)
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بے شک سمندر ہی جہنم کی جگہ ہے۔‘‘ اسے حاکم نے روایت کیا ہے۔
وضاحت : قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے ﴿ وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے۔‘‘ (سورہ تکویر، آیت نمبر6)دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ﴿ وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَت﴾ ’’اور جب سمندر پھاڑ دئیے جائیں گے۔‘‘ (سورہ انفطار، آیت نمبر3) دونوں آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے روز تمام سمندر ایک جگہ اکٹھے کردیئے جائیں گے اور پانی اپنے اصلی اجزاء یعنی دو حصے ہائیڈروجن اور ایک حصہ آکسیجن میں بدل دیاجائے گا جس کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھے گی ۔ یاد رہے کہ ہائیڈروجن خود آگ سے بھڑکنے والی گیس ہے جبکہ آکسیجن آگ بھڑکانے میں مدد دیتی ہے۔ جنت اور جہنم اس وقت دونوں موجود ہیں، لہٰذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ قیامت کے روز جہنم کو بھڑکتے ہوئے سمندر کے اوپر رکھ دیاجائے گا تاکہ جہنم کی آگ مزید بھڑکے اور پھر وہی سمندر کی جگہ جہنم کی مستقل جگہ قرار پائے۔ واللہ اعلم بالصواب !
٭٭٭
[1] صفۃ جہنم ، باب منہ
[2] صحیح الجامع الصغیر ،للالبانی، الجزء الثالث، رقم الحدیث 3184