کتاب: جہنم کا بیان - صفحہ 223
طائف کے قریب ایک جگہ بناوہ (یا نباوہ) میں خطاب فرمایا اور ارشاد فرمایا ’’بہت جلد ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ تم جنتی یا جہنمی کو پہچان لوگے۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کیسے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’(لوگوں کی) اچھی یا بری تعریف کے ذریعے تم لوگ ایک دوسرے کے لئے اللہ کے گواہ ہو۔‘‘ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم(( اَہْلُ الْجَنَّۃِ مَلَائَ اللّٰہَ اُذُنَیْہِ مِنَ ثنَاَئِ النَّاسِ خَیْرًا وَ ہُوَ یَسْمَعُ وَ اَہْلُ النَّارِ مَنْ مَلاَئَ اُذُنَیْہِ مِنْ ثَنَائِ النَّاسِ شَرًّا وَ ہُوَ یَسْمَعُ )) روَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ[1] (صحیح)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جنتی وہ ہے جس کے کان لوگوں سے اپنی تعریف سنتے سنتے بھرجائیں اور جہنمی وہ ہے جس کے کان لوگوں سے اپنی برائی سنتے سنتے بھرجائیں۔‘‘ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
مسئلہ 353: شدید گرمی او رشدید سردی کا موسم جہنم کے دو سانسوں سے پیدا ہوتا ہے ۔ گرم سانس جہنم کے گرم حصہ سے اور سرد سانس جہنم کے سرد حصہ زمہریر سے ۔
وضاحت : حدیث مسئلہ نمبر49کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔
مسئلہ 354: مومن کے لئے بخار جہنم کا حصہ ہے۔
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ((اَلْحُمّٰی حَظُّ کُلِّ مُؤْمِنٍ مِنَ النَّارِ)) روَاہُ الْبَزَّارُ[2] (صحیح)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بخارہر مومن کا جہنم سے حصہ ہے ۔‘‘ اسے بزار نے روایت کیا ہے۔
مسئلہ 355:بعض کلمہ گو مسلمانوں کا سارا جسم آگ جلاڈالے گی۔
[1] کتاب الزہد ، باب الثناء الحسن 2؍ 3403
[2] صحیح الجامع الصغیر ،للالبانی، الجزء الثالث، رقم الحدیث 3182