کتاب: جہنم کا بیان - صفحہ 221
فرمایا،ہر حال میں اس کا شکر ہی شکر ہے۔اے اللہ!ہر چیز کے پالنہار،ہر چیز کے مالک،ہر چیز کے الہ،میں آگ سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔‘‘اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے مسئلہ 348: نماز تہجد میں اللہ کے عذاب سے پناہ مانگنے کی دعا۔ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا قَالَتْ : فَقَدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لَیْلَۃً مِنَ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُہٗ فَوَقَعَتْ یَدِیْ عَلٰی بَطْنِ قَدَمَیْہِ وَھُوَفِی الْمَسْجِدِ وَھُمَا مَنْصُوْبَتَانِ وَھُوَیَقُوْلُ ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مَنْ سَخِطَکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عَقُوْبَتِکَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْکَ لَا اُحْصِی ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِک))رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر سے غائب پایا اور ڈھونڈنے لگی۔میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (پاؤں کے)تلوے پر پڑا جو کھڑے حالت میں تھے۔اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے (اور سجدے کی حالت میں)یہ دعا مانگ رہے تھے ’’اے اللہ!میں تیری رضا کے وسیلے سے تیرے غصہ سے پناہ مانگتا ہوں۔تیری بخشش کے وسیلے سے تیرے عذاب سے پناہ مانگتا ہوں۔ اور میں (ہر معاملے میں)تجھ سے ہی پناہ مانگتا ہوں۔میں تیری حمد و ثنا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ تیری تعریف ویسی ہی ہے جیسی تو نے خود اپنی تعریف کی۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے مسئلہ 349: آگ کے عذاب سے بچنے کی درج ذیل دعا کثرت سے مانگنی چاہئے۔ عَنْ اَنَسٍ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ : کَانَ اَکْثَرُ دُعَائِ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم((اَللّٰھُمَّ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ))مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ [2] حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر دعا یہ ہوتی ’’یا اللہ!ہمیں دنیا میں بھی خیر عطا فرما اور آخرت میں بھی اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔‘‘اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے مسئلہ 350:بیک وقت کم از کم تین مرتبہ جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہئے وضاحت:حدیث مسئلہ نمبر344 کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔
[1] کتاب الصلاۃ ،باب ما یقال فی الرکوع والسجود [2] کتاب الذکر والدعاء والتوبہ، باب فضل الدعاء باللہم اتنا فی الدنیا حسنۃ