کتاب: جانب حلال - صفحہ 572
جیسا کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه وسلم يَقُولُ‏:‏ ((تَهَادُوا تَحَابُّوا‏))[1] ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں ایک دوسرے کو ہدیے(تحفے) دیاکرو اس سے باہمی محبت بڑھے گی۔“ چونکہ تکافل کی یہ شکل وصورت عقدِ معاوضہ نہیں ہے اس لیے تکافل فنڈ میں شریک کسی بھی شخص کو کلیم کرنے کا حق بھی نہیں ہے نہ اس بنیاد پر کہ اُس نے عطیات دئیے ہیں اور نہ ہی اس بنیاد پر کہ تکافل کمپنی کے رولز کےمطابق اُس کا حق بنتا ہے بلکہ کسی طرح کے نقصان ہوجانے کی صورت میں دوسرے شرکاء محض احسان،تبرُّع اور ہدیہ کے طور پر اُس کی مدد کریں۔ اور مقررہ مدّت میں متوقع حادثہ رونما نہ ہوتو اس کو دیاہوا مال واپس نہیں ملتابلکہ بلا عوض دوسروں کو مل جاتاہے اور دوسروں کو مل جانے سے اس کی حق تلفی بھی نہیں ہوتی کیونکہ اس نے جس وقت اپنا مال بیمہ فنڈ کو بطور تبرع واحسان دیا اُسی وقت وہ اپنے حق سے دستبردار ہو گیا،چنانچہ جب حق ہی نہ رہا ہوتو پھر حق تلفی کا کیا سوال، اس صورت میں اگرچہ اس کے سامنے کوئی مادی اور مالی عوض نہیں ہوتا لیکن ایک معنوی عوض ضرور موجود ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اس احسان کی بدولت جہاں انجمن کے ارکان سے اس کےتعلقات زیادہ خوشگوار اور اطمینان ہونگے اور عزت میں اضافہ ہوگا وہاں بارگاہِ
[1] ۔السنن الكبري للبيهقي :كتاب الهبات :باب التحريض علي الهبة والهدية(12297)