کتاب: جانب حلال - صفحہ 569
عبارتیں مذکور تھیں) کہی گئی ہیں،لیکن آج ان پر ہنسی آتی اور شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ہم بھی یہی کہتے تھے کہ فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتابوں میں جو کچھ لکھ گئے ہیں،وہ کافی اور حرف آخر اور قرآن وحدیث کے عین مطابق ہے،لہذا اب ہمیں ہر مسئلے کا شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے صرف کتاب فقہ حنفی کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور یہ کہ آج کسی نے نئے مسئلے سے متعلق براہ راست قرآن وحدیث میں غور کرنا اجتہاد ہے جس کا دروازہ کئی صدیاں پہلے بند اور مقفل ہوچکا ہے،لہذا اجتہاد کرنا گناہ ہے جس سے ضرور بچنا چاہیے،ورنہ بڑے مفاسد رونما ہونگے۔اور مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا،اسی طرح ہم یہ بھی کہا کرتے تھے کہ آج کسی مسئلے کے متعلق کسی بڑے سے بڑے عالم دین کی تحقیق اور رائے اس وقت تک نہ مانی جائے ،خواہ اس عالم کی تحقیق اوررائے قرآن وحدیث کے کتنے ہی مطابق کیوں نہ ہو۔نیز یہ بھی کہا کرتے تھے کہ کسی مسئلے کے بارے میں صحیح وصواب اور حق بات وہ ہے کہ جو فقہ حنفی کی کتابوں میں درج اور مذکور ہو۔اختلاف کی صورت میں دوسری فقہ کی ہر بات کو ہر طریقے سے غلط ثابت کرکے رد کردینا چاہیے،یہی دین اسلام کی صحیح علمی خدمت ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن آگے چل کر جب حقائق کا سامنا کرنا پڑا اور پیش آمدہ مسائل کے لیےحقیقت پسندی اور انصاف کے ساتھ فقہی لٹریچر کا مطالعہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو یہ پتہ چلا کہ ہم جو باتیں کہا کرتے تھے حقیقت سے دور ،کم علمی وکم عقلی اور اندھی اور جامد تقلید کا نتیجہ تھیں اور ہم ایک طرح جہالت اور حماقت میں