کتاب: جانب حلال - صفحہ 562
نقل کیا ہے: عن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صلى اللّٰه عليه وسلم يَقُولُ: ((إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ.))[1] ”حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جب حاکم اجتہاد سے فیصلہ کرے پھر وہ فیصلہ درست ہو تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور جب اس نے اجتہاد سے فیصلہ کیا لیکن غلطی کی تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔“ یعنی جب کوئی مجتہد جس کے دل میں اللہ جل جلالہ کا خوف اور لوگوں کی خیر خواہی ہو اور ہمدردی مقصود ہو اور وہ خالص اللہ جل جلالہ کی رضا کے لیے اجتہاد کرے پھر اس کا اجتہاداگر صحیح بیٹھتا ہے تو اللہ جل جلالہ اس کو اس کے اخلاص کی وجہ سے اور اس کے صحیح اجتہاد کی وجہ سے دواجر دیتا ہے اور اگر اس کا وہ اجتہاد بشری تقاضے اور سمجھ کے فرق سے غلط بیٹھتا ہےتو پھر بھی اللہ جل جلالہ اس کے اخلاص کے سبب اُسے ایک اجر عطا کرتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان آئمہ کرام کے بارہ میں مجھے لب کشائی کی کیا جراءت ؟میں تو ان کے پاؤں میں پہنے جانے والے جوتے کے تلوے کی خاک کے برابر بھی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ غلطی کے باوجود ایک اجر کا مستحق ہے اس لیے کہ اس نے اللہ جل جلالہ کی رضا کے لیے یہ کام کیا اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی یقیناً وہ اجر پائیں گے جس کا وعدہ ہے۔ علامہ ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے نقود کے وقف کے جواز میں اُن لوگوں کا مسلک بیان کیا ہے جو درہم و دینار کو کرائے پر دینے کے بھی قائل ہیں۔[2]
[1] ۔بخاري باب اجر الحاكم اذا اجتهد فاصاب او اخطاج24 ص166مسلم باب بيان اجر الحاكم اذا اجتهد فاصاب اواخطا وغيرهما [2] ۔روضة الطالبين 2/254 المغني 8/229