کتاب: جانب حلال - صفحہ 555
23۔ڈاکٹر زبیر اشرف عثمانی صاحب جامعہ دارالعلوم کراچی 24۔ڈاکٹر عمران اشرف عثمانی صاحب جامعہ دارالعلوم کراچی 25۔جناب سید محمد حسین صاحب سید حسین اینڈ کو کراچی 26۔جناب عبدالرحیم صاحب سیدات حیدر اینڈ کمپنی مجلس کے شرکاء نے مروجہ انشورنس کمپنیوں کے متبادل نظام ”شرکۃ التکافل“پر غور کیا، جس کی عملی صورت بنگلہ دیش، شرق اوسط اور ملائیشیا کی بعض کمپنیوں نے اختیار کی ہے،مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے”شرکات التکافل پر چند اشکالات“کے نام سے جو تحریر اہل علم کے مطالعہ کے لیے ارسال کی تھی اُسے مجلس میں پڑھا گیا اور ان اشکالات کا جائزہ لیا گیا۔ مجلس کے آغاز میں مہمان عرب عالم دین اور متعدد مالیاتی اداروں کے شرعی اُمور کےنگران جناب شیخ عبدالستار ابو غدہ نے مغربی بیمہ کمپنیوں کی تاریخ کا اجمالی جائزہ پیش کیا اور اب اسلامی ممالک میں جو تکافل کمپنیاں کام کر رہی ہیں ان کے طریقہ کار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔بعد میں شرکاء مجلس کے بعض سوالات و شبہات کے جوابات دئیے۔ اس کے بعد متعدد اہل مجلس نے اپنی آراء بیان فرمائیں اور طویل بحث کے بعد مجلس نے یہ طے کیا کہ اس وقت اسلامی ممالک میں جو تکافل کمپنیاں اسلامی اُصولوں کے مطابق کام کر رہی ہیں یا کام کرنا چاہتی ہیں ان سب کی بنیاد”حملۃ الوثاق“(پالیسی ہولڈرز یابالفاظ دیگر قسط ادا کنندگان) کی طرف سے”تبُّرع “(Contribution)باہمی فنڈ (چندہ)پررکھی گئی ہے اور اس تبُّرع کی بنیاد پر وہ اپنے متوقع مالی خطرات کا ازالہ کرتے ہیں مجلس نے محسوس کیا کہ وقف کے بغیر تبّرُع کی بنیاد پر تکافل کمپنیوں کے قیام میں متعدد اشکالات ہیں شیخ عبدالستارابو غدہ اور دوسرے عرب علماء نے اگرچہ ان اشکالات کے اپنےاپنے طور پر جوابات دئیے ہیں۔لیکن مجلس کو خیال ہوا کہ اس مسئلہ میں مزید تحقیق کی ضرورت ہوگی، اگر فی الحال ترجیحاً ان کمپنیوں کی بنیاد تبُّرع کے بجائے وقف پر رکھی جائے تو اس قسم کے اشکالات سے حفاظت ہو سکتی ہے۔[1]
[1] ۔موجودہ نظام انشورنس اور اسلام کانظام تکافل اجتماعی ص 236