کتاب: جانب حلال - صفحہ 553
اسلام اور اُمت مسلمہ کا درد رکھنے والے علماء کرام اور مسلم معیشت دانوں نے انشورنس کے موجودہ غیر شرعی،سودی اور استحصالی طریقہ انشورنس سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنی فکری(Theoretical) اور عملی(Practical) کوششیں شروع کی ہیں۔اس کی پہلی صورت کے طور پر انھوں نے یہ اسلامی تکافل (Islamic Takaful.Islamic Insurance) کا طریقہ کار تجویز کی ہے جو موجودہ طریقہ انشورنس کے بدل (Substitute) کے طور پر کام کرے گا، جس کے مطابق موجودہ انشورنس کمپنیوں کی بجائے اسلامی تکافل کمپنیاں قائم ہو رہی ہیں اور ہوں گی جس سودی اور استحصالی طریقہ کار کی بجائے تعاون باہمی کے طریقہ پر کام کریں گی،اس قسم کی کمپنیاں سعودی عرب ، ملائیشیا، بحرین ، متحدہ عرب امارات، پاکستان ،انڈونیشیا، ایران،اُردن، مصر،بنگلہ دیش میں کام کررہی ہیں۔ اسلامی تکافل کمپنیوں کا طریقہ کار کیا ہے؟ اس میں کہاں شرعی طور پر نقص ہے؟ اس کی مزید اصلاح اور اسے شریعت عادلہ کے مطابق ڈھالنے کے لیے کیا طریقہ اور منہج اختیار کیا جائے ان تمام سوالات کے جوابات کے لیے دارالعلوم کراچی(پاکستان) کےمرکز الاقتصاد الاسلامی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے عالمی سیمینارکی کاروائی کے خلاصے کا مطالعہ ان شاء اللہ مفید ثابت ہوگا، جسے من وعن نقل کیا گیا ہے، صرف عام قاری اور انگریزی تعلیم یافتہ احباب کے لیے اس کاروائی کی بعض فقہی اصطلاحات کا انگریزی ترجمہ کیا ہے،عربی حوالہ جات کا اُردوترجمہ کیا ہے اور ان حوالہ جات کو ان کے اصل مصادرسے تلاش کر کے نقل کردیا۔۔۔۔ جامعہ دارالعلوم کراچی کے شعبہ مرکز الاقتصاد الاسلامی کی دعوت پر پاکستان،بنگلہ دیش اور شام کے اہل علم اور اہل فتوی حضرات کا اہم اجتماع بتاریخ 21،22شوال 1423ھ بروز جمعرات،جمعہ مطابق 26،27دسمبر2002ءجامعہ دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء کے ہال میں بیمہ کےمتبادل نظام”تکافل“پر غورکرنے کے لیے منعقد ہو اجس میں درج ذیل علماء کرام شریک ہوئے۔