کتاب: جانب حلال - صفحہ 546
خریدتا ہے اور یہی چیز اُسے عقد معاوضہ بنا دیتی ہے چونکہ پالیسی ہولڈر کے علم میں پہلے سے یہ بات ہوتی ہے کہ اگر پریمیم کی رقم اتنی ہو تو مجھے نقصان کی صورت میں اتنا ملے گا اور اگر اس سے کم ہو تو پھر اتنا ملے گایہ باقاعدہ کاروبار ہے اور تکافل کمپنی اور واقف دونوں کو پابند کیا جاتا ہے کہ ایک فریق اپنی قسط ادا کرے اور دوسرا فریق اُس کے نقصان کے وقت اُسکی تلافی کرے۔ یہ صریحاً عقد معاوضہ ہی ہے جو ناجائز ہے۔ 3۔چاہے پالیسی ہولڈر کو یہ حق اپنی جمع شدہ رقم کی بنیاد پردیا گیا ہو یا تکافل کمپنی کے وعدہ اور قواعد و ضوابط کی بنیاد پر دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہے اس لیے کہ قواعد وضوابط کے تحت یا وعدہ کے تحت دیا گیا حق بھی پالیسی ہولڈر کی رقم کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے لہذا یہ عقد کسی طرح عقد معاوضہ سے الگ نہیں ہے۔ مزید وقف النقود بھی تاحال محل نظر ہے جس کی تفصیلی بحث ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں آنے والی ہےیہ بالکل ایسی بات ہے جیسے آپ کسی کو قرض دے کر یہ مطالبہ نہیں کرسکتے کہ آپ واپسی کے وقت مجھے بڑھا کردینا لیکن مقروض از خود بغیر کسی پیشگی معاہدے کے اگر اپنی طرف سے کچھ بڑھا کردے جو پہلے سے طے نہیں تھا تو اس میں کوئی حرج نہیں جو خود شارع علیہ السلام سے بھی ثابت ہے لیکن اس میں اگر قرض دہندہ کا کوئی مطالبہ نہ ہو لیکن قرض لینے والا یہ واضح کردے کہ میں لوٹاتے وقت 500روپے کے بدلے600روپے ادا کروں گا اب یہ صورت یقیناً تبدیل ہو جائے گی اور سُود کے زُمرے میں داخل ہو جائے گی،چونکہ مقروض کا وعدہ بھی قرض پردی گئی رقم کی بنا پرہے جو حرام ہے۔ 4۔جناب صمدانی صاحب نے وقف فنڈ سے متعلق قبرستان، مسجد اور کنویں وغیرہ کی جو مثالیں دی ہیں وہ مثالیں بھی موجودہ تکافل پر صادق نہیں آتیں کیونکہ اُن مثالوں میں واقف نے جو شرائط رکھی ہیں، اُن شرائط کا تعلق فنڈ کی کمی بیشی سے نہیں ہوتا بلکہ وہ مطلق ہوتی ہیں مثلاً مسجد کے لیے ایک پلاٹ دس لاکھ روپے مالیت سے خریدا گیا جس کے