کتاب: جانب حلال - صفحہ 408
مضاربت کی مزید دو شکلیں ہیں
1۔مضاربہ مطلق
2۔مضاربہ مقید
1۔مضاربت منعقد ہونے کے لیے ایجاب وقبول ضروری ہے اس ایجاب و قبول کے وقت اگر ربُّ المال نے مضارب پر کوئی قید نہیں لگائی اس سے یہ کہا کہ جس طرح چاہو تجارت کرو یعنی محنت اور کام کی نوعیت کو مضارب کی صوابدید پر چھوڑدیا گیا ہو تو یہ مطلق مضاربت ہے۔
2۔اور اگر کسی مخصوص تجارت کی شرط عائد کردی، مثلاً یہ کہا کہ کراچی میں تجارت کرنی ہوگی، یا یہ کہا کہ صرف کپڑے کی تجارت کرنی ہوگی یا یہ کہا جائے کہ یہ مضاربہ صرف ایک سال کی مدت کے لیے ہے تو یہ مضاربت مقیدہ کہلاتی ہے۔[1]
مضاربت کی مختصر تاریخ
قبل از اسلام عرب معاشرے میں یہ کاروبار رائج تھا، قریش کے اکثر لوگ تاجر پیشہ تھے جس کا اشارہ قرآن مجید نے ﴿رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ﴾ [2] سے کیا ہے۔
ان میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو سرمایہ تو رکھتے تھے لیکن ضعیفی ، بیماری یا دیگرکثیر
[1] ۔القاموس الفقهي الدكتور سعدي ابوحبيب :ج1 ص 222 المضاربة المطلقة هي التي لاتتقيد بزمان ولا مكان ولا نوع تجارة ولا بتعين بائع ولا مشترالمضاربة المقيدة :هي التي تقيدت بواحد من القيود المذكورة في المضاربة المطلقة۔مثلا:اذ قال في الوقت الفلاني او في المكان الفلاني اواشترالاموال الفلانية،او عامل فلانا اواهالي البلدة الفلانية فتكون المضاربةمقيدة)
[2] ۔سورة قريش:2