کتاب: جانب حلال - صفحہ 368
عبادات میں اصل حرمت اور معاملات میں اصل اباحت ہے اس بات کو علماء کرام یوں بیان کرتے ہیں: ”عبادات میں اصل حرمت ہے جب تک شارع علیہ السلام کی طرف سے نص نہ ہوتب تک کوئی کام کرنا جائز نہیں ہوتا اور معاملات میں اصل اباحت ہے یعنی لین دین کی ہر وہ صورت جائز ہے جس سے شریعت نے منع نہ کیا ہو۔“ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "وَالْأَصْلُ فِي هَذَا أَنَّهُ لَا يُحَرِّمُ عَلَى النَّاسِ مِنْ الْمُعَامَلَاتِ الَّتِي يَحْتَاجُونَ إلَيْهَا إلَّا مَا دَلَّ الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ عَلَى تَحْرِيمِهِ كَمَا لَا يُشَرِّعُ لَهُمْ مِنْ الْعِبَادَاتِ الَّتِي يَتَقَرَّبُونَ بِهَا إلَى اللّٰهِ إلَّا مَا دَلَّ الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ عَلَى شَرْعِهِ."[1] ”اس بارہ میں اصل یہ ہے کہ وہ معاملات جن کی لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے ان میں سے صرف وہی حرام ہیں جن کی حرمت پر کتاب و سنت دلالت کر رہی ہوں جیسا کہ عبادات میں سے وہی جائز ہیں جن کی مشروعیت پر قرآن و حدیث میں رہنمائی موجود ہو، اس کے علاوہ ذیل کی احادیث سے بھی اس اصول کی تائید ہوتی ہے:“ (الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ)[2] ”مسلمان اپنی شرطوں کے مطابق ہیں۔ “
[1] ۔مجموع الفتاويٰ لابن تيمية باب فصل الاموال يجب الحكم بين الناس فيها ج6 ص 408 [2] ۔بخاري كتاب الاجارة باب اجر السمسرة