کتاب: جانب حلال - صفحہ 305
ہے کسی کو شادی کی بشارت کسی کو کاروباری میں ترقی کی بشارت کسی کو خزانہ غیب سے بہت ساری دولت ہاتھ آنے کی بشارت، غیب دانی کے دعوے ہاتھ کی لکیریں دیکھ کر ماضی حال اور مستقبل کی خبریں دینا ان کا نام نہاد پروفیسروں کی خاص چالیں ہیں۔ اس طرح کے تمام پیشے کہانت کےزُمرے میں داخل ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہانت کی سخت وعید فرمائی ہے چنانچہ حدیث پاک میں وارد ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَتٰى عَرَّافًا فَسَأَلهُ عَنْ شَئٍ لم تُقْبَلُ لَهُ صَلاةُ أربعينَ يَوْمًا))[1] ”جس شخص نے کسی نجومی کے پاس جا کر پوچھا تو اس کی چالیس روز کی نمازیں قبول نہ ہو نگی۔“ یہ وبال اس شخص کے لیے ہے جو صرف اُن کے پاس جائے اور پوچھے، لیکن جو ان کی تصدیق بھی کرےتو وہ ہر اُس چیز کا عملاً منکر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتاری گئی ہے،یعنی قرآن واحادیث کا۔ چنانچہ اس ضمن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((مَنْ أَتَى كَاهِنًا، أَوْ عَرَّافًا، فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ))[2]
[1] ۔صحيح مسلم،كتاب السلام،باب تحريم لكهانة واتيان الكهان(5957) [2] ۔مسند احمد :ابوهريره(10435) الترمذي،الطهارة باب ماجاء في كراهة اتيان الحائض:(135) ابن ماجه،الطهارة باب النهي عن اتيان الحائض(682)