کتاب: جانب حلال - صفحہ 296
© حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَايُغْنِيهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُدُوشاً أَوْكُدُوشاً فيِ وَجْهِهِ۔قَالُوا يَارَسُولَ اللّٰهِ وَمَا غِنَاهُ قَالَ ۔خَمْسُونَ دِرْهَماً أَوْ حِسَابُهَا مِنَ الذَّهَبِ))[1] ”جس شخص نے سوال کیا اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اسے کفایت کرتا ہو تو قیامت کے دن وہ سوالی کے چہرے پر چھلا ہوانشان بن کر آئے گا، سوال کیا گیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آدمی کو کتنا مال کفایت کرتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پچاس درہم یا اتنی قیمت کا سونا۔ © حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ يَتَقَبَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ وَأَتَقَبَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ ؟ قُلْتُ : أَنَا. قَالَ:( لَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا)قَالَ فَكَانَ ثَوْبَانُ يَقَعُ سَوْطُهُ وَهُوَ رَاكِبٌ ، فَلَا يَقُولُ لِأَحَدٍ نَاوِلْنِيهِ حَتَّى يَنْزِلَ فيَأْخُذَهُ))[2] ”جو شخص میری ایک بات قبول کر لے میں اس کے لیے جنت کا ذمہ لیتا ہوں، میں نے کہا میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے کسی بھی چیز کا سوال نہ کر، پھر ثوبان رضی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت یہ تھی کہ وہ سوار ہوتے اور ان کا کوڑا گر جاتا تو وہ کسی سے یہ نہ کہتے کہ میرا کوڑا پکڑادو بلکہ خود اتر کر اٹھاتے۔“
[1] ۔ابن ماجه :الزكاة ،باب من سال عن ظهر غني(1913) احمد(ابن مسعود) (3747) [2] ۔ابن ماجه كتاب الزكاة باب كراهية المسئلة(1910) احمد(من حديث ثوبان) (22048)