کتاب: جانب حلال - صفحہ 277
صورتیں بدلنا اوربہتان بازی پیدا ہوگی۔مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسا کب ہوگا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گلوکارائیں اور طبلے سارنگیاں عام ہونگی اور شرابیں پی جائیں گی۔ “ 8۔(إِنَّما نَهَيْتُ عَنْ صوتَيْنِ فاجريْنِ ، صوتٌ مزمارُ عند نغَمَةٍ ، و صوتٌ عندَ مُصيِبَةٍ)[1] ”مجھے دو بدترین آوازوں سے روکا گیا ہے،خوشی کے وقت بانسری کی آواز سے اور مصیبت کے وقت رونے کی آواز سے (یعنی نوحہ خوانی وغیرہ سے)۔“ 9۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَكَسْبِ الزَّمَّارَةِ)[2] ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت اور گلوکارہ کی کمائی سے منع کیا ہے“ مذکورہ دلائل سے آپ اچھی طرح جان چکے ہونگے کہ شرعاً گلوکاری اور اُس سے متعلقہ آلات اسلام کی نظر میں کس قدر مذموم اور عذاب الٰہی کو دعوت دینے والے ہیں لیکن افسوس کہ ہم اسے حکومتی سطح پر ثقافتی سرمایہ قراردیتے ہیں کچھ تو گلوکار ہیں اور کچھ پاپ گلوکار ہیں جس میں برگرفیملی کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی مشترکہ اُچھل کود
[1] ۔ترمذي كتاب الجنائز ماجاء في الرخصة في البكاء علي الميت (1005) طبقات ابن سعد 1/138 مسند طيالسي(1683) حاكم 4/40 شرح السنة 5/431 ۔امام بغوی فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن درجہ کی ہے۔ [2] ۔شرح السنة 8/23(2038) بيهقي 6/126 غريب الحديث لابي عبيد 1/341