کتاب: جانب حلال - صفحہ 267
گناہوں کارجسٹرہی پھاڑ دیا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے فرمایا:
((إنَّ أوَّلَ النَّاسِ يَسْتَظِلُّ فِي ظِلِّ اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةَِ لِرَجُلٍ أنْظَرَ مُعْسِرًا حَتّٰى يَجِدُ شَيْئاً أوْ تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِمَا يَطْلُبْه يَقَوْلُ مَالِيْ عَلَيْكَ صَدَقَةُ اِتْغَاءَ وَجْهِ اللّٰهِ وَيَخْرِقُ صَحِيْفَتَه))[1]
”بیشک پہلا شخص جو قیامت کے دن اللہ جل جلالہ کے(عرش کے) سائے تلے جگہ پائےگا وہ،وہ شخص ہوگا جس نے کسی مستحق تنگدست کو(اُدھار دیا) اور مہلت دی(اُس کا نام پتہ اپنے رجسٹر میں لکھ کر اُس کا کھاتہ بنالیا لیکن وہ شخص جب اُدھار مال لے کر وہاں سے روانہ ہوا تو راستے میں ڈاکوؤں نے اُسے لوٹ لیا وہ دلبرداشتہ ہوکر روتا ہواٹپ ٹاپ اتھروبہاتا ہوا اپنے دُکھ کی داستان سناتا ہوا،اُس تاجر کے پاس دوبارہ آحاضر ہوا اور سارا معاملہ کہہ ڈالا،اُس تاجر دکاندار نے ساری بات سن کر کہا):
"مَالِيْ عَلَيْكَ صَدَقَةُ اَبْتَغِيْ وَجْهِ اللّٰهِ تَعَاليٰ."
تو نے جتنا مال مجھ سے اُدھار پر لیا تھا میں نے وہ سارا مال تجھے اللہ جل جلالہ
[1] ۔مجمع الزوائد ومنبع الفوائد(الھیثمی) باب حسن الطلب ج2 ص108 :کنزالعمال باب الاکمال من الفصل الثانی فی الانظار والمسامحۃ ج6 ص 312 :الترغیب والترھیب(المنذری) ج2 ص 23