کتاب: جادو کا آسان علاج - صفحہ 67
شِفَائُکَ، شِفَائً لاَّ یُغَادِرُ سَقَماً )) [1] 7 آخری تین سورتیں پڑھ کربھی دَم کریں۔[2] ملاحظہ : سورۃ الفاتحہ اور مُعوِّذات و غیرہ دعائیں پڑھ کر ( زمزم یا بارش کے )پانی پر یوں پھونک مارنا کہ اس میں معمولی سا لعاب بھی شامل ہوجائے ،اسے پینے اور اپنے یا مریض کے اوپر چِھڑکنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ دو یا زیادہ مرتبہ بھی ایسا کرلیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے ، کیونکہ یہ عمل بعض سلف صالحین سے ثابت ہے اور علّامہ ابنِ عثیمین رحمہ اللہ کے بقول مجرَّب و نافع ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری تین قُل شریف پڑھ کر اپنے ہاتھوں میں پھونک مار کر اپنے چہرۂ اقدس اور جسمِ مبارک پر ہاتھ پھیرا کرتے تھے۔[3] ایسے ہی بعض احادیث کی رو سے کلوَنجی (Black Seeds) یا زیتون (Olive) کے تیل پر دَم کرکے اُسے مَلنا بھی ثابت و جائز ہے۔[4] البتہ کسی برتن وغیرہ پر قرآنی آیات زعفران و غیرہ پاکیزہ چیز سے لکھ کر انھیں پانی یا تیل سے دھوکر اُس پانی یا تیل کا استعمال بعض کبار اہلِ علم مثلاً امام احمد ، ابن تیمیہ اور ابن قیم وغیرہS کے نزدیک تو روا ہے۔[5] لیکن شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی صدارت میں سعودی فتویٰ کمیٹی نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفاء راشدین اور [1] صحیح البخاري مع الفتح (۱۰/ ۲۰۶) صحیح مسلم (۴/ ۱۷۲۱) [2] الصّارم البتّار (ص :۱۳۰) [3] فتاویٰ ابن عثیمین (۱/ ۷۱۔۷۲) العلاج عن طریق السحر والکھانۃ خطر عظیم للشیخ ابن باز (ص: ۳۰۵) بذیل فتح الحق المبین۔ [4] مسند أحمد (۳/ ۴۹۷) السلسلۃ الصحیحۃ، رقم الحدیث (۳۷۹) [5] فتاویٰ ابن تیمیہ (۱۹/ ۶۴) زاد المعاد (۴/ ۱۷۰)