کتاب: اسلامی اجتماعیت میں خاندان کا کردار - صفحہ 92
حضرت علی رضی اللہ عنہ کاقول ہے: ’’کوئی نکاح گواہوں کے بغیر نہیں ہوتا۔‘‘۹۳؎ 7۔اعلان نکاح ضروری ہے موطا امام مالک میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ درج ہے: ’’أن عمررضی اللّٰہ عنہ بن الخطاب أتی بنکاح لم یشہد علیہ إلا رجل وامرأۃ فقال ہذا نکاح السر ولا أجیزہ ولو کنت تقدمت فیہ لرجمت‘‘۹۴؎ ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نکاح کا ایک واقعہ پیش ہوا،جس میں ایک عورت اور مرد کے سوا کوئی بھی شریک نہیں تھا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ خفیہ نکاح ہے،میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا اور اگر میرے پاس کوئی ایسا معاملہ آیا تو میں رجم کر دوں گا۔‘‘ صحیح بخاری میں ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہ اپنے نکاح کا واقعہ بیان کرتی ہیں: ’’فجعلت جویریات لنا یضربن بالدف ویندبن من قتل من آبائی یوم بدر إذ قالت إحداھن:وفینا نبی یعلم ما فی غد فقال:دعی ھذہ وقولی بالذی کنت تقولین‘‘ ۹۵؎ ’’ہماری چھوٹی بچیاں دف بجا رہی تھیں۔اور جنگ بدر میں ہمارے مقتول آباء و اجداد کا تذکرہ کر رہیں تھیں۔جب ان میں سے ایک نے یہ کہا:ہمارے اندر ایسے نبی ہیں جو کل کے متعلق بھی جانتے ہیں۔تو آپ نے فرمایا:اس بات کو چھوڑو اور وہی کہو جو کہہ رہی ہو۔‘‘ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَلَا مُتَّخِذِیْ اَخْدَان وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمٰنِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ وَھُوَ فِی الآَْخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْن﴾۹۶؎ اس آیت کی تفسیر میں ابن جریر طبری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’جہاں تک ’مُتَّخِذِیْ اَخْدَان‘ کا تعلق ہے۔تو یہ وہ مرد و عورت ہیں جو پوشیدہ دوستی لگانے و الے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔‘‘۹۷؎ حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: ’’فصل بین الحلال والحرام الدف والصوت فی النکاح‘‘۹۸؎ ’’حلال اور حرام نکاح میں فرق کرنے والی چیز،دھوم دھام سے نکاح کرنا اور دف بجانا یعنی تشہیر کی صورت اختیار کرنا ہے۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں: ((اعلنوا ہذا النکاح)) ’’اس نکاح کا اعلان کیا کرو۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ نکاح کا اعلان کرو اور شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔‘‘ ۹۹؎