کتاب: اسلامی اجتماعیت میں خاندان کا کردار - صفحہ 80
کے بغیر نہ ہونے پر تمام صحابہ کا اجماع ہے۔‘‘ اسی طرح امام ابن قدامہ رحمہ اللہ تحریر کرتے ہیں: ’’أن النکاح لا یصح إلا بولي ولا تملک المرأۃ تزویج نفسھا ولا غیرھا ولا توکیل غیر ولیھا تزویجھا فإن فعلت لم یصح النکاح روی ہذا عن عمر،وعلی،وابن مسعود،وابن عباس،وابی ھریرۃ و عائشہ رضی اللّٰہ عنھم،وإلیہ ذھب سعید بن المسیب والحسن و عمر بن عبدالعزیز و جابر بن زید و الثوری وابن أبی لیلی و ابن شبرمہ وابن المبارک وعبید عنبری والشافعی وإسحاق و أبو عبید وروی عن ابن سیرین و قاسم بن محمد والحسن بن صالح وأبی یوسف:لا یجوز لھا ذلک بغیر إذن الولي فإن فعلت کان موقوفا علی أجازتہ‘‘۵۱؎ ’’بے شک نکاح ولی کے بغیر صحیح نہیں ہوتا اور عورت خود اپنا نکاح یا کسی دوسری عورت کا نکاح کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی،اپنے ولی کے بغیر اگر وہ ایسا کرے گی تو نکاح صحیح نہیں ہوگا۔یہ مذہب(صحابہ میں سے)حضرت عمر رضی اللہ عنہ،علی رضی اللہ عنہ،ابن مسعود رضی اللہ عنہ،ابن عباس رضی اللہ عنہ،ابوھریرہ رضی اللہ عنہ،اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے۔اور اسی طرف(تابعین میں سے)سعید بن مسیب رحمہ اللہ،حسن بصری رحمہ اللہ،عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ،جابر بن زید رحمہ اللہ،(ائمہ میں سے)امام ثوری رحمہ اللہ اور ابن ابی لیلٰی رحمہ اللہ،ابن شبرمہ رحمہ اللہ،ابن مبارک رحمہ اللہ،عبید اللہ العنبری رحمہ اللہ،امام شافعی رحمہ اللہ،امام اسحاق رحمہ اللہ اور ابو عبید رحمہ اللہ گئے ہیں۔اور ابن سیرین رحمہ اللہ،قاسم بن محمد رحمہ اللہ،حسن بن صالح رحمہ اللہ،اور امام ابویوسف رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عورت کے لئے یہ کام(نکاح بغیر ولی کی اجازت کے)جائز نہیں ہے۔اگر عورت ایسا کرے گی تو ولی کی اجازت تک اس کا نکاح واقع نہیں ہوگا۔‘‘ ٭ حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ یوں موجود ہے: ’’قال جاء ت إمرأۃ إلی جابر بن زید رضی اللّٰہ عنہ فقالت:إنی زوجت نفسی فقال إنک لتحدثینی إنک لزنیت فسفعت برہۃ ثم انطلقت‘‘۵۲؎ ’’جابر بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے اپنا نکاح خود کر لیا ہے۔تو جابر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کیا تم مجھے یہ بتانا چاہتی ہو کہ تم نے زنا کر لیا ہے۔اس عورت نے یہ جواب سن کر اپنے منہ پر افسوس سے تھپکا اور کچھ دیر کھڑی رہی اور پھر چلی گئی۔‘‘ ائمہ تابعین رحمہم اللہ کے اقوال ٭ امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ’کوئی عورت کسی دوسری عورت کا نکاح نہ کرے… اور حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’لا تشہد المرأۃ یعنی الخطبۃ ولا تنکح‘‘۵۳؎ ’’یعنی عورت کو عقد نکاح پر گواہ نہ بنایا جائے اور نہ ہی عورت کسی کا نکاح کرے۔‘‘ ٭ خلیفۃ المسلمین،عبد الملک بن مروان نے ایک فیصلہ یوں کیا: ’’نکحت بنت حسین إبراہیم بن عبد الرحمن بن عوف بغیر إذن ولیہا،أنکحت نفسہا،فکتب ہشام بن إسماعیل إلی عبد الملک،فکتب:إن فرق بینہما،فإن کان دخل بہا فلہا مہرہا،بما استحل منہا،وإن لم یدخل بہا خطبہا مع الخطاب‘‘ ۵۴؎