کتاب: اسلامی اجتماعیت میں خاندان کا کردار - صفحہ 63
کے سامنے لایا جائے۔نکاح میں تشہیر کے وجود کا مقصد یہ ہے کہ وہ زنا سے ممتاز ہوجائے اورخطبہ بھی اہم کاموں میں مستعمل ہوتاہے اورنکاح کا امر عظیم ہونا اورباہم اس کاخیال رکھنا بھی مقاصد میں سے بہت بڑامقصد ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بنیادکو باقی رکھا اوروضع کوبدل دیا اس طرح کہ دیگر مصالح کے ساتھ ایک اوربھی مصلحت کا اضافہ کردیا اوروہ یہ کہ ہر ارتفاق کے ساتھ اس کا مناسب ذکر مطلوب ہے۔تاکہ اللہ کے شعائرمیں سے ہر عمل کی تعظیم کی جائے۔ اوراس کی علامت وامارت ظاہر ہوں چنانچہ اس میں ذکر کی چند اقسام جیسے اللہ کی حمد،مدد حاصل کرنا،بخشش چاہنا،پناہ مانگنا،توکل کرنا،شہادت دینا اورقرآن کی آیات کومسنون کردیا اوراس قول سے اس کی مصلحت کی طرف اشارہ کیا اورہر وہ خطبہ جس میں تشہد نہ ہو وہ کوڑھ زدہ ہاتھ کی طرح ہے۔۷۶؎ ٭ٹیلی فون پر نکاح نکاح کی حقیقت میں گواہوں کی موجودگی میں اپنا ایجاب وقبول کا نام ہے اس لیے اگر کوئی شخص اپنی بیٹی یابہن کاکسی شخص سے نکاح کرنے کے لیے ٹیلی فون پر اظہار رضامندی کردے اوردوسری طرف سے لڑکا یا اس کا وکیل دوعادل گواہوں کی موجودگی میں اس نکاح کوقبول کرے تونکاح ہوجائے گا۔ لیکن واضح رہے کہ احتیاط کاتقاضہ یہی ہے کہ لڑکا اورکم ازکم دوعادل گواہ ایک ہی مجلس میں روبرو جمع ہوں۔البتہ اگرکسی مشکل کے پیش نظر ایسا کرنے میں مشقت ہو توٹیلی فون کے ذریعے نکاح کا ایجاب و قبول کروایا جاسکتاہے تاہم اس کے باوجود یہ اطمینان کر لینا ضروری ہے کہ ایجاب وقبول کے سلسلہ میں کوئی دھوکا باز ی نہ ہو اسی طرح ٹیلی فون کے ذریعے طلاق دی جائے تو وہ مؤثر ہوجائے گی۔ عادل گواہ کسے کہتے ہیں؟ نکاح کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ نکاح دوعادل گواہوں کی موجودگی میں ہو۔یہاں پر ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جوکسی شخص میں پائی جائیں تواسے عادل کہاجاسکتا ہے۔ کسی آدمی میں جب پانچ چیزیں پائی جائیں تواسے عادل کہا جاسکتاہے توایسے دو آدمیوں کا تقریب نکاح میں موجودہوناضروری ہے۔ جن پانچ چیزوں سے عدالت ثابت ہوتی ہے ان کامختصر ذکر کیاجاتاہے۔ 1۔اسلام اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَائِ﴾۷۷؎ گواہ ایسے ہونے چاہیں جن کوآپ پسند کرتے ہیں آپ ان کے گواہ بننے سے راضی ہوں توایک مسلمان اپنے نکاح کے موقع پر غیر مسلم کوگواہ بنانا کبھی بھی پسند نہیں کرسکتا اس لیے کہ کافر کا دل خیانت،کذب اوربے ایمانی کامحل ہوتاہے اوراس لیے بھی کافر کومسلمان گواہ بنانا پسند نہیں کرے گا کہ وہ ہمارے دین اسلام کا دشمن ہے اور اختلاف دین کی وجہ سے وہ ارکان اسلام کومسمار کرنے کی کوشش کرے گا اوراسی طرف اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا اشارہ ہے: ﴿لَایَأْلُوْنَکُمْ خَبَالًا﴾۷۸؎ ’’کہ وہ تمہار ی تباہی میں فساد پھیلانے کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گے۔‘‘