کتاب: اسلامی اجتماعیت میں خاندان کا کردار - صفحہ 362
اختتامیہ دنیا میں آنکھ کھولنے والا ہر انسان اپنے دائیں اور بائیں چند افراد کو دیکھتا ہے،جن کے رنگ میں وہ رنگا جاتا ہے،ان کے طور طریقے،عادات اور رسوم و رواج کو وہ اپنا لیتا ہے۔یہ افراد اس کا خاندان کہلاتے ہیں۔خاندان مل کر ایک قوم،قبیلہ اور برادری بن جاتے ہیں اور قبائل کے ملنے سے ایک معاشرہ تشکیل پاتا ہے،اس طرح افراد،خاندان اور معاشرے کا ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔ ہر معاشرہ اپنے عقائد ونظریات کی بنیاد پر اپنا خاندانی نظام تشکیل دیتا ہے۔اسلام نے خاندانی نظام کے ہر پہلو کو پوری شرح وبسط کے ساتھ واضح کیا ہے۔کیونکہ خاندان ہی وہ بنیادی یونٹ ہے جس سے معاشرہ وجود میں آتا ہے۔اور کسی بھی معاشرے کی ترقی اور عروج اس بنیادی یونٹ کے ہر عنصر کا اپنی جگہ صحیح کام کرنا ضروری ہے۔صحیح کام کا تعین وحی الٰہی کرتی ہے۔جو کہ قرآن وسنت کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی عملی صور ت بھی ہمارے سامنے پیشکی۔وحی الٰہی کے علاوہ انسانی کاوشوں سے تشکیل پانے والا معاشرہ خود انسانی کاوش کی طرح ناقص اور نا مکمل ہے۔اس وقت دنیا جس ذہنی اور عمل انتشار کا شکار ہے۔اس کا سبب وحی الٰہی پر انسانی کاوش کو مقدم کرنا ہے۔اور عملی صورت میں مغرب اوریورپ کا معاشرہ ہمارے سامنے موجود ہے۔وہ مغرب اور یورپ جو سانئسی طور پر مثالی اور معاشرتی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اسلامی معاشرہ اس وقت ترقی پذیردور سے گذر رہا ہے۔ٹیکنالوجی کے اعتبار سے اسے زیادہ تر غیر مسلموں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔اس کا ایک نقصان یہ بھی ہو رہا ہے کہ مسلمان دنیا کے زیادہ تر معاملات میں مغرب کی نقالی کر رہے ہیں۔وہاں سے اگر ٹیکنالوجی آ رہی ہے تو معاشرتی بگاڑ بھی پوری طرح ہم پر حملہ آور ہے۔ایسے میں ہمارا شاندار اور مثالی خاندانی نظام خطرے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ایسے میں ضروری ہے کہ ہم اپنے خاندانی نظام کی اسلامی روایات کو شعوری طور پر اختیار کریں۔اس مقالے میں اسلامی خاندانی نظام کا ڈھانچہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ہمیں اپنے تعلیمی نصاب میں خاندانی نظام کے تمام اجزاء کو بتدریج داخل کرنا ہو گا اور اس کی افادیت کو ہر جگہ اجاگر کرنا ہے۔تاکہ ہمارا خاندانی نظام بچ سکے او رمزید مستحکم ہو۔ کیونکہ کا میاب خاندان ہی کا میاب معاشرے کا ضامن ہے۔ اس مقالے میں پوری کوشش کی گئی ہے۔لیکن حق ادا کرنے کا دعوی نہیں۔اللہ تعالیٰ اسے شرفِ قبولیت سے نوازے او رامت کیلئے نفع مند بنائے۔