کتاب: اسلامی اجتماعیت میں خاندان کا کردار - صفحہ 342
٭ شیخ ابن عثمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’میت پر جنازہ پڑھنا اسی طرح جائز ہے جیسے مردکے لیے جائز ہے۔‘‘۷۷؎ سعودی مجلس افتاء کا فتویٰ ’’مرد اور خواتین دونوں کے لیے نماز جنازہ مشروع ہے لیکن خواتین جنازے کے پیچھے نہیں جائیں گی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرمایا ہے۔‘‘۷۸؎ تعزیت کرنا لفظ تعزیت باب عزی یعزی(تفعل) کا مصدر ہے جس کا معنی ’’تسلی دینا،حوصلہ بڑھانا‘‘ ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((من عزی اخاہ المومن فی مصیبۃ کساہ اللّٰہ حلۃ حضراء یحبرھایوم القیامۃ قیل،یارسول اللّٰہ!ما یحبر؟ قال یعبط)) ۷۹؎ ’’جس شخص نے اپنے کسی مومن بھا ئی کو مصیبت میں تسلی دی تو اللہ تعالیٰ اسے ایسا سبز لباس پہنائیں گے جس کے ذریعے روز قیامت اس پر رشک کیا جائے گا۔‘‘ حضرت قرہ مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا بچہ فوت ہوگیا: ((فعزاہ علیہ ثم قال یا فلان!أیما کان أحب الیک أن تمتع بہ عمرک أولا تأتی غدا إلی باب من أبواب الجنۃ إلاوجدتہ قد سبقک إلیہ یفتحہ لہ)) ۸۰؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعزیت فرمائی۔پھر فرمایا:اے فلاں!تمہیں کون سی چیز زیادہ پسند ہے کہ تم اس(بچے) کے ذریعے اپنی زندگی کو فائدہ پہنچاؤ یا کل کو تم جب جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے کے پاس آؤ گے تو اسے وہاں پہلے سے موجود پاؤ گے تو وہ تمہارے لیے اسے(یعنی جنت کا دروازہ) کھولے گا۔ محدثین کے اقوال 1۔ ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اہل میت سے تعزیت کرنا مشروع ہے۔‘‘۸۱؎ 2۔ شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’میت کے گھروالوں سے تعزیت کرنا جائز ہے۔‘‘۸۲؎ تعزیت میں غیر شرعی امور سے اجتناب کرنا چاہئے 1۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لیس منا من لطعم الخدود،وشق الجیوب وضرب الخدود ودعا بدعوی الجاھلیۃ)) ۸۳؎ ’’جس نے کسی کی موت پررخساروں کو پیٹا،گریبان کو پھاڑا اور جاہلیت کی باتیں کیں وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘