کتاب: اسلامی اجتماعیت میں خاندان کا کردار - صفحہ 228
مرکزی اخلاقی برائیاں 1۔ جھوٹ کی عادت 2۔ گالی گلوچ اوربدزبانی کی عادت 1۔جھوٹ کی عادت اسلام کی نظرمیں جھوٹ سب سے بری خصلت ہے اس لیے تربیت کے تمام ذمہ دران کوچاہیے کہ اس کابہت زیادہ خیال رکھیں۔اس سلسلہ میں خوب محنت کریں تاکہ بیویوں کواس سے بازرکھ سکیں۔اوراس کی نفرت ان کے دلوں میں راسخ کردیں اورجھوٹ اورنفاق کی گندی عادتوں سے دوررہیں۔ جھوٹ کی مذمت قرآن کی ر وشنی میں 1۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تَرَالَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلَی اللّٰہ وُجُوْہُہُمْ مُّسَوَّدْۃً أَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْمُتَکَبِّرِیْنَ﴾۶۷؎ ’’قیامت کے روزآپ جھوٹوں کودیکھیں گے جواللہ پرجھوٹ باندھتے تھے ان کے چہرے سیاہ کالے ہوں گے(انہوں نے کیاسمجھ رکھاتھا)کیامتکبرین کاٹھکاناجہنہم نہیں ہے؟۔‘‘ 2۔ اللہ تعالیٰ دوسرے مقام پرفرماتے ہیں: ﴿إِنَّمَایَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لاَیُؤمِنُوْنَ بِآیٰتِ اللّٰہ فَأُولٰئِکَ ہُمُ الْکَاذِبُوْنَ﴾۶۸؎ ’’جھوٹ تووہ لوگ بولتے ہیں جواللہ تعالیٰ کے حکموں پرایمان نہیں رکھتے پس وہی لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘ 3۔ اللہ عزوجل سورۃ المؤمن فرماتے ہیں: ﴿إِنَّ اللّٰہ لاَیَہْدِیْ مَنْ ہُوَمُسْرِفٌ کَذَّابٌ﴾۶۹؎ ’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کوراہ نجات نہیں دکھاتاجولوگ مسرف اورجھوٹے ہوں۔‘‘ قرآن مجیدمیں ایسے بہت سے مقامات پرجھوٹ کی مذمت کی گئی ہے۔ جھوٹ کی مذمت احادیث رسول کی روشنی میں جھوٹ ایک خطرناک گناہ سنگین جرم اور اخلاق وکردار کو خراب کر دینے والا جرم ہے اور اس کے نتائج بھی سخت مہلک اور کردار مسموم کر دینے والے ہیں اور جھوٹ کے عادی سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہتا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ڈرایا اور خوف دلایاہے۔ایسی چند احادیث ذیل میں پیش کی جاتی ہیں۔ عن عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسو ل اللّٰہ((علیکم بالصدق فإن الصدق یہدی إلی البر و إن البر یہدی إلی الجنۃ ومایزال الرجل یصدق ویتحری الصدق حتی یکتب عند اللّٰہ صدیقا وإیاکم والکذب فالکذب یہدی إلی الفجور والفجور یہدی إلی النار ومایزال العبد یکذب ویتحری الکذب حتی یکتب عند اللّٰہ کذابا))۷۰؎