کتاب: اسلامی اجتماعیت میں خاندان کا کردار - صفحہ 215
خاوند پر آجاتی ہے اور اگر وہ شادی نہ کرے تو ہمیشہ اپنے ولی کی ذمہ داری میں ہی رہے گی۔یہاں تک کہ وہ بہت بڑی عمر کو پہنچ جائے او راپنی حفاظت کرنے کے قابل بھی ہو۔حنفیہ نے اس لمبی عمر کی وضاحت نہیں کی۔لیکن ان کی عبارتوں سے یہی مفہوم نکلتا ہے کہ وہ بڑھیا بانجھ ہوجائے جس میں جنس مخالف کی کوئی رغبت باقی نہ رہے۔‘‘ جہاں تک مالکیہ کا مذہب ہے ان کی رائے میں لڑکے پر ولی کی ذمہ داری،سبب کے ختم ہونے تک باقی رہتی ہے اور ذمہ داری کا سبب صغر سنی ہے لڑکی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس پر ولی کی ذمہ داری خاوند کے ساتھ ہمبستری کرنے کے بعد ختم ہوتی ہے۔ مطلقہ یا بیوہ لڑکی کا نفقہ دوبارہ باپ پر لوٹ آتا ہے حنفیہ،شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک طلاق کی صورت میں بیٹی(مطلقہ) کانفقہ دوبارہ باپ پر لوٹ آئے گا،جیسا کہ زیر نظر فقہ کی کتاب میں وضاحت سے موجود ہے: ’’واتفقوا فی ما إذا کانت جاریۃ مزوجۃ و دخل بھا الزوج ثم طلقھا بعد ذلک فقالوا تعود النفقۃ علی الاب‘‘۸؎ ’’اور اس بات پر ائمہ کا اتفاق ہے کہ جب لڑکی شادی شدہ ہو اور اس کا خاوند اس سے ہمبستری کرلے پھر اس کے بعد اس کو طلاق دے دے توسب کہتے ہیں کہ اس مطلقہ لڑکی کا نفقہ(کفالت) باپ پر لوٹ آئے گی۔‘‘ فقہ کی ایک اور نامور کتاب میں ائمہ کے اسی موقف کو یوں دہرایا گیاہے: ’’ولو تزوجت الجاریۃ ودخل بھا الزوج ثم طلقھا قال أبوحنیفۃ والشافعی و أحمد تعود نفقتھاعلیٰ الأب وقال مالک لا تعود‘‘۹؎ ’’اور اگر لڑکی شادی شدہ ہو جائے اور اس سے خاوند ہمبستری بھی کر لے پھر وہ اسے طلاق دے دے تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ اس کا خرچہ اور کفالت باپ پر لوٹ آئے گی۔اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک نہیں لوٹے گی۔‘ جس کانفقہ اور کفالت واجب ہے اس کی سکونت اورلباس وغیرہ بھی واجب ہے یمن کے چیف جسٹس امام شوکانی رحمہ اللہ اپنی مایہ ناز کتاب میں یہ اصول بیا ن کرتے ہیں: ’’ومن وجبت نفقتہ وجبت کسوتہ و سکنہ لما یستفاد من الآیات القرآنیۃ والأحادیث الصحیحۃ المتقدم ذکرھا‘‘۱۰؎ ’’قرآنی کریم کی آیات اور صحیح احادیث کے مطالعے سے یہ اصول بخوبی واضح ہے کہ جس کا نفقہ واجب ہے اس کی رہائش،لباس اور طعام بھی واجب ہے۔‘‘ لڑکی کے لئے نکاح سے قبل والدین کے ساتھ رہائش رکھنا واجب ہے۔جبکہ لڑکے کے لئے مستحب ہے انسائیکلو پیڈیا فقہ حنبلی،جسے وزارت اوقاف کویت نے ترتیب دیا ہے،میں حضانت(پرورش و تربیت) کے زیر عنوان موجود ہے: ’’فإن کان رجلا فلہ الإنفراد بنفسہ لاستغنائہ عنھما ویستحب أن لا ینفرد عنھما ولا یقطع برہ عنھما وإن کانت فتاۃ لم یکن لھا الإنفراد ولأبیھا منعھا منہ وإن لم یکن لھا أب فلولیھا وأھلھا منعھا من ذلک‘‘۱۱؎ ’’اولاد بالغ ہو تو اگر وہ لڑکا ہو تو ماں باپ کا محتاج نہ ہونے کی بنیاد پر ان سے علیحدہ رہائش رکھ سکتا ہے،لیکن اس کے لئے مستحب یہ ہے