کتاب: اسلامی اجتماعیت میں خاندان کا کردار - صفحہ 144
بلا وجہ طلاق کی ممانعت لفظ طلاق ایسالفظ ہے جوبڑا حساس اورنازک ہے جس کے زبان سے صادر ہوتے ہی خاندانوں کے خاندان کی اساس،اپنی ثمروعمارت سمیت مسمار ہوتی چلی جاتی ہے۔جواتنا حساس اورسنجیدہ لفظ ہے جس سے ہر حال میں حقیقت مراد لیاجاتا ہے۔خواہ یہ لفظ مذاق و مزاح میں کہاجائے یاحقیقت سمجھتے ہوئے کہاجائے یہ ہرصورت میں سنجیدگی اوراٹل حقیقت کواپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے: ’’ثلاث جدہن جد،وہزلہن جد النکاح والطلاق والرجعۃ‘‘ ۵۴؎ ’’تین چیزیں ایسی ہیں جن کی حقیقت بھی حقیقت ہے اوران کا مذاق بھی حقیقت ہی۔(وہ ہیں)نکاح،طلاق اور رجوع۔‘‘ لہٰذا اس امر کی سنجیدگی اورحساسیت کو سامنے رکھتے ہوئے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیرسوچے سمجھے طلاق دینے کوپسندنہیں فرمایا۔ بلاوجہ طلاق کی ممانعت اپنے دورخ اختیارکر تی ہے۔وہ اس طرح کہ بسااوقات ایساہوتاہے کہ مرد عورت کواتناتنگ کرتاہے تاکہ عورت خلع کامطالبہ کرے اوراس کا مال جو اس نے مہر میں دیاتھابچ جائے۔اوربسااوقات ایسے ہوتاہے کسی اور سے شادی رچالیتی ہے یااپنے معاشقے کوتقویت دینے کے لیے اپنے خاوندسے الگ ہونا چاہتی ہے۔ 1۔بلاوجہ طلاق دینے کی ممانعت خاوند کا بیوی سے براسلوک کرناحرام ہے۔کہ وہ اس سے خلع طلب کرے اوروہ اپنی بیوی کے بعض حقوق روک کر اس کوایذادے حتی کہ وہ مجبورہوجائے اوراپنے لیے خلع کوپسندفرمالے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿یَاَیُّہَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا لَایَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوالنِّسَائَ کَرْہًا وَّلَاتَعْضُلُوْہُنَّ لِتَذْہَبُوْا بِبَعْضِ مَااٰتَیْتُمُوْہُنَّ اِلَّااَنْ یَاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃ﴾۵۵؎ ’’اے لوگوں جو ایمان لائے ہو،تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے اس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جوتم انہیں دے چکے ہو،ہاں اگر وہ کسی صریح بد چلنی کی مرتکب ہوں(تو پھر تمہیں سزا دینے کی اجازت ہے)‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک اوراندازمیں فرمایا: ﴿وَاِنْ اَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْج وَاٰتَیْتُمْ اِحْدٰہُنَّ قِنْطَارًا فَلَاتَاْخُذُوْا مُنْہٗ شَیْئًا اَتَاْخُذُوْنَہٗ بُہْتَانًا وَّاِثْمًامُبِیْنًا﴾۵۶؎ ’’اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ،دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو توخواہ تم نے اسے ڈھیر سامان ہی کیوں نہ دیا ہو اس میں سے کچھ واپس نہ لینا،کیا تم اسے بہتان لگاکر اور صریح ظلم کرکے واپس لوگے۔‘‘ بعض علماء کی رائے میں اس حال میں خلع نافذہوجائے گالیکن علیحدگی کی حرمت ساتھ ہوگی۔امام مالک کی رائے یہ ہے کہ خلع اس بناپرنافذہوگاکہ وہ طلاق ہے۔اورخاوندپرلازم ہوگاکہ جومعاوضہ وہ بیوی سے لے چکا ہے اسے واپس کردے۔۵۷؎ ایک جگہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے خاوندکے بارے میں فرمایا: