کتاب: اسلامی اجتماعیت میں خاندان کا کردار - صفحہ 129
کی کم فہمی ہے انہوں نے اس سزاکواس مخصوص محل سے الگ کرکے دیکھا،اس لیے اس کی حکیمانہ مصلحت وہ سمجھ نہیں سکے۔قرآن مجید نے یہ سخت سزا اس لیے تجویز کی ہے کہ طلاق واقع نہ ہو۔دوسرے لفظوں میں اس نے خاندان کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے اس آخری اورناپسندیدہ تدبیر کوبھی اختیارکرلیا۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اسلام کی نظرمیں طلاق کتنی ناپسندیدہ چیزہے اس نے یہ توگوارہ کرلیا کہ نافرمان عورت کوجسمانی سزادی جائے لیکن اس کوگوارہ نہیں کیا کہ اس کوچھوڑ دیاجائے۔اوراس کی نادانی کی وجہ سے خود اس کااوراس کے بچوں کامستقبل تاریک ہوجائے۔ اس کے علاوہ جسمانی سزا کابھی حکم اس صورت میں دیا گیاہے کہ جب پہلی دوصورتیں(افہام اورخواب گاہ سے علیحدگی)ناکام ہوجائیں توتدابیر کی ناکامی اس امر کاثبوت ہوگاکہ عورت کے اندر منفی داعیات بہت سخت ہیں۔ایک نارمل عورت کے لیے یہی سزا کافی ہے کہ اس کاشوہر اس سے تعلق زن وشوختم کرلے۔لیکن اس کے باوجود اگر عورت نافرمانی کی روش نہیں چھوڑتی تواس سے صاف ظاہر ہوجاتاہے کہ اس کی فطرت میں سرکشی ہے۔لیکن اسلام اس سرکش عورت کوبھی چھوڑنے کاحکم نہیں دیتا۔بلکہ اس کوراہ راست پرلانے کے لئے جسمانی سزا تجویزکرتاہے۔تاکہ وہ نافرمانی کی سزا چھوڑدے اورشوہر کی مطیع وفرمانبردار بن جائے اوراس طرح وہ طلاق کے تباہ کن نتائج سے محفوظ ہوجائے لیکن اگر جسمانی سزابھی بے اثرثابت ہواورعورت بدستور نشوز۔۔(نافرمانی وسرکشی)کی روش اختیارکیے رکھے توہر منصف مزاج شخص کافیصلہ یہی ہوگا کہ اب طلاق کے سوا کوئی چارہ کار نہیں لیکن اسلامی قانون کی خوبی دیکھیں کہ وہ بہت ہی توقف اختیار کرتاہے۔اور حکم دیتاہے کہ مرداورعورت دونوں خاندانوں سے ایک ایک مرد بطور حکم لیا جائے اورایک فیملی کورٹ بنائی جائے،یہ فیملی کورٹ اس چیز کی حتی المقدور کوشش کرے کہ طرفین میں مصالحت ہوجائے اور طلاق واقع نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کاوعدہ ہے کہ اگر وہ صدق دل سے باہم ملنا چاہیں گے تووہ ان میں اتحاد پیداکردے گا۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ﴿وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوْاحَکَمًامِنْ اَہْلِہٖ وَحَکَمًامِنْ اَہْلِہَا اِنْ یُرِیْدَا اِصْلَاحًایُّوَفِّقِ اللّٰہ بَیْنَہُمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًاحَکِیْمًا﴾۱۳؎ ’’اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیو ی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکَمْ مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو،وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کی صورت نکال دئے گا،اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے۔‘‘ بالآخر اگر فیملی بھی،فریقین کے درمیان صلح کرانے میں کامیاب نہ ہو توپھر اسلام مرداورعورت کوجدا ہونے کااختیار دیتاہے۔مرد کویہ اختیار طلاق کی صورت میں اورعورت کویہ اختیار خلع کی صورت میں حاصل ہے۔ قانون طلاق قرآن کریم کے متعدد مقامات پرایک سے زیادہ سورتوں میں قانون طلاق کاذکر آیاہے۔مثلاً سورۃ بقرۃ میں ہے: ﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتَان فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٍ بِإِحْسَان ط وَلَایَحِلُ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْامِمَّااٰتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْئًا اِلَّا اَنْ یَّخَافَا اِلَّایُقِیْمَا حُدُوْداللّٰہ ط فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّایُقِیْمًا حُدُوْد اللّٰہ فَلَاجُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَاافْتَدَتْ بِہٖ ط تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَاجُنَاحَ عَلَیْہمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَا تَعْتَدُوْہَا ط وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَأُولٰئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْن فَإِنْ