کتاب: اسلامی اجتماعیت میں خاندان کا کردار - صفحہ 120
4۔ شریعت محمدی نے تعدد ازواج کا مسئلہ نئے سرے سے پیش نہیں کیا۔ 5۔ ہماری شریعت میں اسے صرف معتدل اوربہترین ’ Repiep ‘کرتے ہوئے پیش کیا گیاہے۔ ٭ علامہ قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’کان الرجل فی الجاہلیۃ یتزوج العشرۃ فما دون ذلک فأجل اللّٰہ جل ثناء ہ أربعا ثم الذی صیرہن إلی أربع‘‘۶۸؎ ’’آدمی جاہلیت میں دس یا کم وبیش عورتوں سے شادی کرتا اللہ تعالیٰ نے چار کوحلال برقرار رکھا اورپھر اس پر ان کو چلا دیا۔‘‘ گویا دین اسلام معتدل مذہب ہے اس لیے،اس نے معتدل راستہ چار بیویوں تک کی اجازت کو قرار دیاہے۔