کتاب: اسلامی اجتماعیت میں خاندان کا کردار - صفحہ 107
تعدد ازواج کی حکمتیں اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کواس کی استطاعت کے مطابق کسی چیز کامکلف ٹھہر اتاہے۔اس لیے اللہ کا ہر حکم اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر نیت اورفرمان واجب الاطاعت ہوتاہے۔چاہے اس کی حکمت انسان کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے اس لیے کہ جہاں انسان کے علم وعقل کی انتہاء ہوتی ہے وہاں سے علم ہی کا آغاز ہوتاہے۔اگرچہ مفکرین کی رسائی اس تک ہویا نہ ہو اس کے باوجود اللہ کا شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے احکام کی حکمتیں اپنے بندوں پر واضح کردیتاہے۔مرد کے لیے چار شادیوں کی اجازت بھی ایسا معاملہ ہے جس کی حکمت وفلسفہ کواہل علم نے مختلف انداز سے واضح کیاہے۔ تعددازواج کے دو پہلوہیں۔1۔ ذات پر اثرات 2۔ تمدن پر اثرات ان دونوں حوالوں سے مفکرین نے اس مسئلے کی عقد کشائی کی ہے۔ذاتی حوالے سے یہ جاننا چاہیے کہ اللہ نے مرد کو طاقت وربنایاہے اورمرد کوعورت سے زیادہ طاقت عطافرمائی ہے۔جولوگ عورت کی خواہش نفسانی کو مرد سے زیادہ خیال کرتے ہیں،ان کی تردید حافظ ابن قیم رحمہ اللہ ان الفاظ میں کرتے ہیں۔ ’’قولہم ان اللّٰہ جعل للمرأۃ شہوۃ تزید علی …الخ‘‘۲۹؎ ’’ان کاکہنا کہ اللہ نے عورت میں شہوت مرد سے سات گنا زیادہ رکھی ہے۔حافظ کہتے ہیں کہ اگر معاملہ ایسا ہی ہوتاتواللہ تعالیٰ مرد کوچار بیویاں اورجتنی چاہے لونڈیاں رکھنے کی اجازت نہ دیتا۔اورعورت کوپابند نہ کرتا کہ وہ ایک سے آگے نہ بڑھے۔حالانکہ اس کے لیے تقسیم اوقات میں چوتھائی حصہ آتاہے۔ہر گز اللہ کی حکمت یہ نہیں ہے۔وہ مجبور ومعذور پر مزیدتنگی اوراس کے حرج میں وسعت کرے۔‘‘ گویا حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کی صراحت یہی ہے کہ اگر اللہ نے مرد کوچاربیویوں کی اجازت دی ہے تووہ اس کا اہل ہے ورنہ نااہل ہونے کی صورت میں چار بیویوں کی اجازت قطعا نہ ملتی۔دوسری وجہ ابن قیم رحمہ اللہ یہ بیان کرتے ہیں۔ ’’وأیضا فإن طبیعۃ الذکر الحرارۃ وطبیعۃ الأنثی البرودۃ وصاحب الحرارۃ یحتاج من الجماع فوق مایحتاج الیہ صاحب البرودۃ‘‘۳۰؎ ’’اوراسی طرح مرد کی طبع گرمی والی ہے۔اور عورت کی طبیعت ٹھنڈی ہے۔گرمی والے کو،ٹھنڈی طبیعت والے کی نسبت زیادہ مجامعت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ لہٰذا مرد اپنی ضرورت کے تقاضے کے مطابق زیادہ بیویاں رکھ سکتاہے۔نیز مرد کی طاقت وحرارت کے بارے میں حافظ ابن قیم رضی اللہ عنہ کے مزید دلائل اعلام الموقعین(۲؍۱۰۵)میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ تنوع پسندی اس پر مزید قابل توجہ امر یہ ہے کہ مر د بالطبع تنوع پسندہے۔اوروہ ایک سے زائد بیویوں کا خواہش مند رہتاہے۔علامہ محمد حنیف ندوی رحمہ اللہ اس فطری تقاضے کی روشنی میں اہل یورپ کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ’’مردبالطبع تنوع پسندہے یہی وجہ ہے کہ یورپ میں وحدت زوج کی سکیم کامیاب نہیں رہی۔‘‘۳۱؎ تعدد ازواج کے حوالے سے مرد کا فطری رجحان یہی ہے۔ ٭ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: