کتاب: اسلام میں تصور مزاح اورمسکراہٹیں - صفحہ 82
کان پکڑ رکھا تھا، اس دوران میں ایک شخص آ گیا، دونوں نے اس سے کہا جو فیصلہ تم کردو گے وہ ہمیں منظور ہوگا، اس نے کہا اگر تم میرے فیصلہ پر راضی ہو تو ہر ایک یہ حلف کرے کہ اگر وہ میرا فیصلہ نہ مانے گا تو اس کی بیوی پر طلاق ہے، دونوں نے ایسا حلف کر لیا، پھر اس نے کہا اب اس کے کان چھوڑ دو دونوں نے چھوڑ دیے اب اس نے اس کا کان پکڑا اور لے کر چلتا بنا (کہ اس کا فیصلہ یہی تھا) دونوں دیکھتے رہ گئے اس سے بات کرنے پر قادر بھی نہ رہے (کہ اگر ناراضگی کا اظہار کرتے تو بکری کے ساتھ بیوی بھی جائے گی۔) (کتاب الاذکیا، از امام جوزی رحمۃ اللہ علیہ) جاحظ کہتے ہیں کہ ایک معزز شخص بغداد آیا اور اس نے اپنے والد کو خیریت کی اطلاع دینے کے لیے خط بھیجنا چاہا تو وہاں کوئی خط لے جانے والانہیں ملا تو یہ خود واپس گیا اور اپنے والد کو کہا کہ میں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ آپ کو میرے پہنچے کی اطلاع دیر سے ملے لانے والا کوئی نہ تھا اس لیے یہ خط میں خودلے آیا ہوں یہ کہہ کر اس نے خط اپنے والد کے حوالے کردیا۔(حماقت اور اس کے شکار) ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کے پاس عربی کی ایک کتاب تھی، دلی کے ایک مولوی صاحب اس کتاب کو دیکھنے کا شائق تھے، تعلقات کچھ اس قسم کے تھے کہ ڈپٹی صاحب انکار نہ کرسکے، نہ دینا چاہتے تھے۔ مولوی صاحب کے اصرار پر آخر انھیں ایک دن کتاب دینی پڑی۔ کتاب مولوی صاحب کی طرف بڑھاتے ہوئے ڈپٹی صاحب نے فرمایا: "کتاب تو بڑی اچھی ہے، لیکن اس کی جلد سؤر کے چمڑے کی ہے۔"