کتاب: اسلام میں تصور مزاح اورمسکراہٹیں - صفحہ 68
طبقات شافعیہ میں اس ضمن میں ایک لطیفہ لکھا ہے۔ ایک مسخرہ جس کا لقب عبادہ مخنث تھا۔ ایک روز واثق باللہ کے پاس آیا۔ اور کہا: اعظم الله اجرك فى القرآن يا امير المؤمنين! عربوں کا دستور ہے کہ جب کوئی فوت ہوجاتا ہے تو اس کی تعزیت میں اعظم اللہ اجرک کہتے ہیں۔ خلیفہ نے کہا: ’’ اے کم بخت! کیا قرآن بھی فوت ہوگیا ہے؟‘‘ عبادہ مخنث کہنے لگا’’ اے امیرالمؤمنین! قرآن آخر مخلوق ہے اور مخلوق کا وفات پانا ضرور ہے۔ پھر کہنے لگا: ’’ اے امیر المؤمنین! اگر قرآن وفات پاجائے تو تراویح کس طرح پڑھو گے؟ واثق باللہ نے یہ سن کر کہا: ’’ مجھے بڑے بڑے علماء اس مسئلہ میں مات نہ کر سکے لیکن ایک مسخرے نے مجھے لا جواب کردیا۔‘‘ (علمی مزاح :صفحہ77) ایک مرتبہ جحا نے آٹا خریدا اور ایک مزدور سے اٹھوایا مزدور وہ آٹا لے کر بھاگ گیا، جحا نے کافی دنوں بعد اسے دیکھا تو چھپ گیا۔ لوگوں نےپوچھا: کیوں چھپ رہا ہے؟ جحا نے کہا: مجھے ڈرہے کہ کہیں مزدور کرائے (اجرت) کا مطالبہ نہ کردے۔ (اخبار الحمقیٰ والمغفلین از حافظ جمال الدین ابوالفرج عبدالرحمان ابن الجوزی رحمتہ اللہ علیہ) اعمش کی طبیعت میں کچھ سختی تھی۔ شاگردوں سے جب کبھی ناراض ہو جاتے تو