کتاب: اسلام میں تصور مزاح اورمسکراہٹیں - صفحہ 59
کاپی پر پیسٹ کیا جاتا۔ مولانا نے وقت بچانے کے لیے نیا اداریہ لکھ کر ایک ایسے خوشنویس کو ان کے گھر پہنچایا جو کبھی غلطی نہیں کرتا تھا اور اسے پیغام دیا کہ ابھی کتابت کرکے اس آدمی کے ہاتھ بھیج دو اور پہلے سے بھی زیادہ احتیاظ سے کتابت کرو تاکہ پروف پڑھنے ہی نہ پڑیں۔ وہ خوشنویس بہت عبادت گزار شخص تھا، وہ اس وقت مصلے پر بیٹھا ذکر میں مشغول تھا ، اس نے مصلے پر بیٹھے بیٹھے ادارئیے کی کتابت کی اور اسے مولانا کے فرستادہ شخص کے ہاتھ واپس بھجوادیا۔ کاپی پیسٹر نے پروف پڑھے بغیر اسے کاپی پیسٹ کیا اور کاپی پریس بھجوا دی صبح جب اخبار چھپ کر آئی تو اداریہ کچھ یوں تھا: ’’ ہم انگریز سرکار پر واضح کر دینا چاہتے ہیں، اللہ اکبر، اللہ اکبر ، کہ اس کے ظلم کے دن سبحان اللہ، سبحان اللہ گنے جا چکے ہیں۔ ہندوستانی عوام بیدار.....‘‘ اور اس کے آگے پھر ورد تھا، مولانا نے اداریہ پڑھا تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ خوشنویس کو طلب کیا مگر اس کا سفید نورانی چہرہ دیکھ کر مولانا کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اسے آئندہ کے لیے احتیاط کرنے کو کہا اور ایڈیٹر کو ہدایت کی آئندہ کسی کارکن کی عبادت میں خلل نہ ڈالا جائے کہ اس صورت میں اس کی ذہنی کیفیت اور کام غلط ملط ہو جاتے ہیں۔(مزاحیات کا انسائیکلوپیڈیا از نذیر انبالوی صفحہ211) اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک ایک دن شکار کے لیے نکلا تو راستے میں ان کو ایک کانا آدمی ملا جسے اس نے بدشگونی سمجھا اور کہا اس کو باندھ کر ایک ویران کنویں میں پھینک دو، اگر آج ہم نے شکار کر لیا تو اسے چھوڑ دیں گے، ورنہ اس کو قتل کر دیں گے، سپاہیوں نے اس بے چارے کانے آدمی کو باندھ کر کنویں میں