کتاب: اسلام میں تصور مزاح اورمسکراہٹیں - صفحہ 58
میں وظیفے پڑھ رہے ہیں۔"(مزاحیات کا انسائکلوپیڈیا266) شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر جب تخت نشیں ہوا تو اس نے پورے ملک میں موسیقی پر پابندی عائد کردی۔ پہلے بادشاہوں نے جو دربار میں موسیقار رکھے ہوئے تھے انھیں بھی برخاست کردیا۔ اورنگزیب عالمگیر کے اس اقدام سے موسیقار بڑے سٹپٹائے۔ انہوں نے بڑی کوششیں کیں لیکن اورنگزیب نہ مانا۔ بالآخر شاہی فنکاروں نے ایک روز نقلی جنازہ تیار کیا اور روتے پیٹتے آنسو بہاتے شاہی نشست گاہ کے سامنے سے گزرے۔ اورنگزیب عالمگیر نے جب جنازہ دیکھا تو بے چینی سے پوچھا: "کون مرگیا ہے اور یہ کس کا جنازہ ہے؟" موسیقاروں نے جواب دیا: "راگ مر گیا ہے اور ہم اسے دفنانے قبرستان جا رہے ہیں۔" اورنگزیب عالمگیر مسکرایا اور کہا: " پھرقبر ذرا گہری کھودنا۔" بعض اوقات تمام تر احتیاط کے باوجود پروف کی غلطیاں رہ جاتی ہیں اور ان میں کچھ تو بہت مزا دیتی ہیں۔ مولانا ظفر علی خاں اپنے اخبار "زمیندار" میں انگریزوں کے خلاف بہت زور دار اداریئے لکھا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ان کا لکھا ہوا پورا اداریہ سنسر کی زد میں آ گیا۔ اس وقت کاپی پریس میں جانے والی تھی۔ اتنا ٹائم نہیں تھا کہ اداریہ لکھا جاتا اور خوشنویس کو دیا جاتا، پھر پروف ریڈنگ ہوتی اور پھر