کتاب: اسلام میں تصور مزاح اورمسکراہٹیں - صفحہ 56
کہا : آؤ! تمناؤں میں مقابلہ کریں( ہم دونوں میں سے ہر ایک اپنی اپنی تمنا بیان کرے) اس میں واللہ میں تجھ پر غالب رہوں گا۔ بدیح نے کہا: ’’آپ مجھ پر ہر گز غالب نہ آسکیں گے۔ولید نے کہا: میں غالب ہوکر رہوں گا‘‘ اس نے کہا:’’ دیکھا جائے گا۔ولید نے کہا: ’’ تو جس تمنا کا اظہار کرے گا میں اس سے دوگنی کا اظہار کروں گ، تو اپنی تمنا کو سامنے لا....‘‘ بدیح نےکہا: بہت اچھا میری تمنا تو یہ ہے کہ مجھے ستر قسم کا عذاب دیا جائے اور مجھ پر اللہ ہزاروں لعنت بھیجے۔ولید نے کہا:کمبخت تیرا برا ہو بس تو ہی غالب رہا۔(لطائف علمیہ،اردو ترجمہ کتاب الاذکیا)
ایک دن امیر تیمور پوری شان وشوکت سے دربار لگائے بیٹھا تھا۔ تمام درباری نہایت منظم طریقے سے مودبانہ اردگرد حسب مراتب کھڑے تھے۔امیر نے خلفائے بغداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے القابات کس قدر رعب والے اور پرشکوہ ہوتے ہیں مثلاً مستنصر باللہ،معتصم باللہ اور متوکل باللہ وغیرہ میری خواہش ہے کہ میں بھی کوئی اس قسم کا لقب اختیار کروں جو اسی طرح اسلام سے بھی مطابقت رکھتا ہو۔مجھے سوچ کر بتاؤ کہ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اور میرے لیے اچھے اچھے القابات تجویز کروتاکہ ان میں سے کوئی ایک جو مجھے پسند آجائے اختیار کرلوں۔
دربار میں ایک ایسا آدمی بھی موجود تھا جس کی امیر تیمور سے بے تکلفی تھی۔ کبھی ایسا موقع نہیں آیا تھا کہ امیر نے اس کی کسی بات کا برا منایا ہو۔وہ بولا: جان کی امان پاؤں تو کوئی لقب تجویز کروں؟ بادشاہ نے اجازت دے دی تو بولا: وزن کی مناسب سے نعوذباللہ ٹھیک رہے گا۔(پندرہ روزہ ننھے مجاہد:اکتوبر 2004ء)