کتاب: اسلام میں تصور مزاح اورمسکراہٹیں - صفحہ 182
عمر بن بحر الجاحظ لکھتے ہیں کسی مروزی کے ہاں کوئی ملاقاتی آتا ہے یا پاس بیٹھا ہوا شخص دیر تک بیٹھا رہتا ہے تو وہ اس سے کہتا ہے کہ کیا تم نے آج کھانا کھالیا ہے،  اگر وہ جواب میں ہاں کہے تو وہ اس سے کہتا ہے کہ اگر تم نے کھانا نہ کھایا ہوتا تو تم (میرے ہاں) بہت عمدہ کھانا کھاتے، اگر وہ کہتے کہ نہیں تو وہ اس سے کہتا کہ اگر تم نے کھانا کھا لیا ہوتا تو میں تمہیں پانچ جام پلاتا، لہٰذا دونوں صورتوں میں مہمان کے ہاتھ میں کچھ نہیں آتا۔ (کتاب البخلاء از ابوعثمان عمرو بن بححر الجاحظ) سراج منیر سقوط مشرقی پاکستان کے بعد لاہور وارد ہوئے تو انہوں نے ایک ادبی تقریب میں اپنی فارسی گزل سے اپنی نمود کا آغاز کیا، باقی اشعار پر تو حاضرین فارسی سے عدم واقفیت کے باعث خاموش رہے، لیکن ایک شعر پر انہیں بے پناہ داد ملی اور اسے بار بار پڑھوا کر سنا گیا، شعر یہ تھا: اے پردہ نشیں گشتی رسوا سر بازارے ''اے محبوبہ! ہر درودوار پر تیری تصویر آویزاں ہے اور یوں تو پردہ نشین ہونے کے باوجود بازار بازار رسوا ہو رہی ہے۔'' تقریب کے اختتام پر سراج منیر نے اپنے ایک لاہور دوست سے کہا۔ ''یار میں حیران ہوں کہ پوری غزل پر حاضرین کو سانپ سونگھے رہا لیکن اس شعر میں کون سی بات تھی کہ سارا ہال تحسین و آفرین سے گونج گیا۔ دوست نے سراج منیر کی معلومات میں اضافہ کیا۔۔۔ 'تم نے اس میں پردہ ''نشین گشتی'' کا ذکر کیا ہے نہ ۔۔ اور جانتے ہو، لاہور میں گشتی کسے کہتے ہیں۔؟''(ادبی شرارتیں از کلیم نشتر)