کتاب: اسلام میں تصور مزاح اورمسکراہٹیں - صفحہ 176
ہے ،جب گوشت کچی حالت میں سامنے رکھا جائے گا تو میں بھنا ہوا بکری کا بچہ ان کے سامنے پیش کرنے سے منع کردوں گا(کیونکہ وہ کھنے کے قابل ہی نہیں ہوگا) اور جب وہ اسے نہ کھائیں گے تو تم اسے دوبارہ تندور میں رکھ دینا اور کل دوبارہ ہمارے سامنے ٹھنڈا کرکے پیش کردینا، پس بکری کا ایک بچہ دو بچوں کے قائم مقام ہوگا۔ ایک مرتبہ گوشت بھوننے والا حکم کے خلاف ورزی کرتے ہوئے بکری کا بچہ خوب اچھی طرح بھون کر لے آیا مہمانوں نے کھانے پر خوب ہاتھ صاف کیا تو اس نے بھوننے والے کو جھوٹی تہمت لگانے کی سزا قذف کے برابر اسی کوڑے لگائے۔ (کتاب البخلاء از ابو عثمان عمرو بن بحر لحاحظ) بزرگ شاعر حضرت نوح ناروی اپنی غزل سنا چکے تو ایک باذوق نوجوان دیرتک سردھنتا رہا اس کی یہ حالت دیکھ کر قریب بیٹھے ایک صاحب نے داد دی۔’’بڑا اعلیٰ ذوق پایا ہے آپ نے۔‘‘ ’’ذوق سے زیادہ حیرت کی بات ہے صاحب....ناروے کا باشندہ اور اتنا اچھا اردو شاعر...کمال ہے۔‘‘ نوجوان نے جواب دیا۔(ادبی شرارتیں از کلیم نشتر)  علی الاعمی، یوسف بن کل خیر کے ہاں اس وقت گیا جب وہ دوپہر کا کھانا کھا چکا تھا تو اس نے اپنی لونڈی سے کہا کہ اے لڑکی! ابو الحسن کے لیے کھانا لاؤ، لونڈی نے جواب دیا کہ ہمارے پاس کچھ بچا ہوا نہیں ہے ، تو اس نے لونڈی سے کہا کہ تیرا ستیاناس ہولے آجو کچھ بھی موجود ہے، ہمیں ابوالحسن کے ساتھ کوئی تکلف والی بات نہیں ھے ،علی کواس بات میں کوئی شک نہ تھا کہ اس کے لیے سالن آلو روٹی لائی