کتاب: اسلام میں تصور مزاح اورمسکراہٹیں - صفحہ 152
میں ہوں گے ۔ ‘‘ وہ بھاگا بھاگا گیا اور ان صاحب ک بلا کر لیا ، داغ نے ان سے پوچھا کہ : ’’ آپ کے چلے کیوں گئے ؟ ‘‘ وہ کہنے لگے : ’’ آپ نماز پڑھ رہے تھے اس لیے میں چلا گیا ۔‘‘ داغ نے فورا کہا : ’’ حضرت ! میں نماز پڑھ رہا تھا ، لاحول  تو نہیں پڑھ رہا تھا جو آپ بھاگے۔ ‘‘ ( ماہنامہ بیدار ڈائجسٹ لاہور جنوری 2004ء ) جنگ عظیم 1939 ء میں مجلس احرار اسلام کی ’’ تحریک فوجی بھرتی بائیکاٹ ‘‘ چل رہی تھی ، قاضی احسان اللہ شجاع آبادی ( رحمۃ اللہ علیہ) مجلس احرار کے ڈکٹیٹر کی حیثیت سے گرفتار ہو کر ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی میں ایام اسیری گزار رہے تھے  ، قاضی صاحب کے ساتھ دیگر قومی رہنماؤں کے علاوہ اخبار ’’ پرتاپ ‘‘ کے مالک ’’ مہاشہ کرشن ‘‘ کے بڑے بیٹے ’’ مہاشہ ویر اندر ‘‘ بھی قید تھے ، موصوف متعصب ہندو تھے اور مذہب و سیاست پر اکثر بحث و تکرار اور چھیڑ چھاڑ کرتے ۔ قاضی صاحب کا بیان ہے کہ ایک دن میں اور چودھری افضل حق رحمۃ اللہ علیہ کھانا کھا  رہے تھے ،میں نے یونہی ہڈی چبائی کہ اتنے ’’ مہاشہ ویر اندر ‘‘ آگئے اور ان کی نظر پڑ گئی ، وہ ہم سے الگ تھلگ کھانا کھاتے تھے ، مجھے ہڈی چباتے دیکھ کر کہنے لگے : قاضی کتے کا کیا مذہب ہوتا ہے ؟ مہاشہ نے چوٹ کی ۔ میں نے کہا : مہاشہ جی ! روٹی ڈال کر دیکھ لو ، اگر تو ساتھ مل کر کھائے تو ہم میں سے اور اگر کھائے الگ بیٹھ کر پھر لالہ جی ، مہاشہ ویر اندر جواب سن کر سٹپٹایا اور سخت شرمندہ ہوا ، اس دن کے بعد مہاشہ مجھے دیکھ کر کنی کتراتے اور بحث و تکرار سے بھی گریز کرتے ۔ ( بحوالہ : زندگی کے لطیف حادثے ) ( ننھے مجاہد 15 اپریل 3005 ء )