کتاب: اسلام میں تصور مزاح اورمسکراہٹیں - صفحہ 124
خوبصورت تھی جب عمران کی نگاہ اس پر پڑی تو اس کو بے اختیار تکتا رہا بیوی نے کہا کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ واللہ آج صبح کے وقت تو بہت پیاری دکھائی دے رہی ہے۔ اس نے کہا بشارت ہو میں اور تو دونوں جنتی ہیں۔ اس نے کہا یہ تجھے کہاں سے معلوم ہوگیا؟ اس نے کہا اس لیے کہ تجھے مجھ جیسی عورت ملی اور اس پر تو نے اللہ کا شکر کیا اور میں تجھ جیسے کے ساتھ مبتلا ہوئی تو میں نے صبر کیا اور صابر اور شاکر دونوں جنت میں جائیں گے۔ (لطائف علمیہ،اردو ترجمہ کتاب الاذکیا) ہارون الرشید ایک دفعہ خراسان سے حج کے لیے مکہ مکرمہ جارہا تھا ،طوس کے مقام پر اسے ایک شخص ملا جو کہنے لگا: اے خلیفہ میں ایک بددہوں ،مامون نے کہا کوئی تعجب کی بات نہیں اس نے کہا میں حج کے لیے جانا چاہتا ہوں، مامون نے کہا خدا کی زمین وسیع ہے بڑی خوشی سے جاؤ، وہ کہنے لگا:میرے پاس زاد راہ نہیں ہے، مامون نے اس کو جواب دیا، تب تو تجھ پر حج فرض ہی نہیں، بدو بولا، امیرالمومنین! میں آپ سے کچھ انعام لینے آیاہوں ،فتویٰ تو نہیں پوچھنے آیا، مامون الرشید ہنس پڑے اور اسے انعام دینے کا حکم دے دیا۔ جارج پرناڈشا عظیم ڈرامہ تو تھے ہی، بلا کے خودپرست بھی تھے۔ اکثر کہتے تھے کہ میری تحریر کا ایک ایک لفظ پونڈ کی قیمت رکھتا ہے۔ کسی نے ازراہ مذاق ایک پونڈ بھیجتے ہوئے لکھا: ’’ایک پونڈ حاضر ہے، براہ کرم مجھے ایک قیمتی لفظ ارسال کردیجیے۔‘‘