کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 91
تحریر فرما دیے ہیں ۔ یہ کتاب اسلام میں پہلی جامع اُصولی کتاب سمجھی جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’اصل قرآن و سنت ہیں ۔ اگر ان میں نہ ملے توان کی روشنی میں قیاس کیا جائے … اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل صحیح الاسناد حدیث ہو تو کافی ہے… اجماع خبر واحد سے بڑی چیز ہے۔ حدیث کا ظاہر لیا جائے گا… اگر کئی معانی کا احتمال ہو تو اسے لیا جائے گا جو ظاہر سے قریب تر ہو۔ احادیث برابر ہوں تو صحیح الاسناد حدیث قابل ترجیح ہو گی۔ حدیث منقطع صرف ابن مسیب کی لی جا سکتی ہے … اصل کو اصل پر قیاس کیا جا سکتا ہے اور نہ اس میں کوئی چون و چرا… فرع میں کیوں اور کیسے کا سوال ہوتا ہے … اور اصل پر اس کا قیاس صحیح ہو تو وہ بھی صحیح ہے اور قابل حجت۔ ‘‘[1] مذکورہ اُصول سے ظاہر ہے کہ امام شافعی کے نزدیک تشریع میں قرآن و سنت دونوں برابر ہیں ۔ حدیث چونکہ اصل ہے اس لیے صحت و اتصال کے علاوہ اور کوئی شرط نہیں … اصل میں کوئی چون و چرا نہیں ۔ اس لیے شہرت حدیث[2] کی بھی کوئی شرط نہیں جب کہ وہ عموم بلویٰ میں وارد ہو۔ جب کہ امام ابو حنیفہ کے یہاں شرط ہے… حدیث سے اختلاف عمل اہل مدینہ کی بھی شرط نہیں جس کی شرط امام مالک کے نزدیک ہے لیکن امام شافعی نے مراسیل سعید بن مسیب کے علاوہ اور کوئی حدیث مرسل [3]قبول نہیں کی ۔ کیونکہ وہ انہیں متصل الاسناد مانتے ہیں ۔ اس میں آپ نے امام مالک ، امام ثوری اور معاصر علماء حدیث جو اسے حجت مانتے تھے [1] المنہاج از امام نووی ۔ الفکر السامی : ۱؍۳۹۸۔ [2] حدیث مشہور … جس کے دو سے زیادہ طرق محصورہ ہوں یا جسے ہر طبقہ میں تین یا اس سے زیادہ راویوں نے روایت کیا ہو ۔ دیکھیے : شرح نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر: ۱۷۔ [3] حدیث مرسل … وہ حدیث جس کی سند تابعی کے بعد ساقط ہو جیسے کسی تابعی کا کہنا قال رسول اللّٰہ ؐ کذا … اور اس کا تذکرہ نہ کرے کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس نے روایت کی۔