کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 73
سے سالم نے ان سے ان کے باپ نے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ وہ نماز کی ابتداء اور رکوع میں جاتے اور اُٹھتے وقت رفع الیدین فرمایا کرتے تھے۔ امام ابو حنیفہ نے فرمایا: مجھ سے حماد نے ان سے ابراہیم نے ان سے علقمہ نے … اور اسود نے ابن مسعود سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف نماز کی ابتداء میں رفع یدین فرماتے اور کوئی چیز مکرر نہ کرتے۔ امام اوزاعی نے کہا: میں زہری سے سالم کی اور ان سے ان کے باپ کی روایت بیان کر رہا ہوں اور آپ فرما رہے ہیں کہ مجھ سے حماد نے ان سے ابراہیم نے روایت بیان کی۔ امام ابو حنیفہ نے فرمایا: حماد زہری سے اور ابراہیم سالم سے بڑے فقیہ ہیں اور علقمہ بھی ابن عمر سے کم نہیں ۔ اگر ابن عمر شرفِ صحبت میں فائق ہیں تو اسود بھی بڑے صاحبِ فضل و کمال ہیں ۔ اور عبداللہ بن مسعود کی جلالت شان معلوم ہی ہے۔ یہ سن کر امام اوزاعی (ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے ) خاموش ہو گئے۔ [1] امام ابو حنیفہ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’ہم اپنی اس رائے پر کسی کو مجبور نہیں کرتے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص نہ چاہتے ہوئے بھی اسے قبول کرے ۔اگر کسی کے پاس اس سے اچھی بات ہو تو اسے لائے۔‘‘ [2] درحقیقت سبھی متبع ہیں اس لیے صحتِ سنت کی صورت میں کوئی اس سے اختلاف نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ وہ اسے سمجھ پائے۔ لفظ میں گنجائش ہو اور فریقین کے مسلمہ دلائل سے تعارض نہ ہو تو ہر ایک دوسرے کے اخذ کردہ مفہوم کو صحیح مانتا ۔ اعتقادی و فقہی اختلاف پر سیاسی اثر: مذکورہ فقہی اختلاف میں جمہور اُمت اور اکثریت کا یہ طرزِ عمل تھا کہ شک و شبہ سے بالاتر [1] الفکر السامی : ۱؍۳۲۰۔ [2] الانتقاء: ۶۴۰۔