کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 64
دیا مگر باپ کے باپ کو باپ نہیں بنایا۔ اور پھر کہا میں چاہتا ہوں کہ حصہ کے اس مسئلہ میں جو لوگ مجھ سے اختلاف کرتے ہیں وہ اور میں سبھی جمع ہو کر اللہ سے دعا کریں ، گڑ گڑائیں اور کہیں کہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔[1] صحابۂ کرام کے فقہی اختلافات کی یہ مثالیں ہم اس لیے نہیں پیش کر رہے ہیں کہ ان کی گہرائی میں اُتر کر ان کی اصل حد تک پہنچیں ۔ بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ یہ فراموش شدہ اُصول و آداب ہم پھر ذہن میں تازہ کر کے ان کی مدد سے فقہی اختلافات حل کریں اور انہیں اپنے معاملات میں استعمال کر کے اپنا وہی اسلوبِ حیات بنا لیں ۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جنہیں اپنے مذکورہ اجتہاد کی صحت اور سیّدنا زید رضی اللہ عنہ کے اجتہاد کی غلطی پر اتنا کامل و ثوق تھا ان کا حسن کردار یہ تھا کہ ایک بار سیّدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو انہوں نے تشریف لاتے ہوئے دیکھا تو ان کی سواری کی رکاب تھام لی اور ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ سیّدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فرزند عم رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ چھوڑ کر ہٹ جائیں اور ایسا نہ کریں ۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہمیں یہی سکھایا گیا ہے کہ اپنے علماء اور بڑوں کے ساتھ ایسا ہی کریں ۔ اس پر سیّدنا زیدرضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اپنے ہاتھ بڑھائیں ۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہاتھ آگے کیا۔ جسے سیّدنا زید رضی اللہ عنہ فوراً چوم لیا اور فرمایا: ہمیں اہل بیت نبی کے ساتھ ایسا ہی کرنے کا حکم اور تعلیم دی گئی ہے۔[2] سیّدنا زید رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: علم اس طرح رُخصت ہوتا ہے۔[3] اور ایک روایت میں ہے علم کا جانا اس طرح ہوتا ہے۔ آج علم کا بہت زیادہ حصہ دفن ہو گیا۔[4] [1] حاشیہ المحصول: ۲؍ق ۲؍۷۶۔ و ۲؍ ق ا ؍ ۱۸۔ [2] کنز العمال: ۷؍۳۷۔ حیاۃ الصحابۃ: ۳؍۳۰۔ [3] علام الموقعین: ۱؍۱۸۱۔ [4] سنن البیہقی: ۶؍۲۱۱۔ المحصول: ۲؍ق ۲؍ ۷۷۔