کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 63
یگانگت اور عزت و احترام میں کوئی کمی نہیں آئی۔ سیّدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک روز دو آدمی آئے ، ان میں سے ایک نے سیّدنا عمر سے اور دوسرے نے کسی اور صحابی رضی اللہ عنہما سے قرآن حکیم پڑھا تھا۔ پہلے شخص نے آپ سے کہا کہ مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ہے۔ یہ سن کر سیّدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ رو پڑے ، ان کا دامن آنسوؤں سے تر ہو گیا اور فرمایا : سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تمہیں جس طرح پڑھایا ہے اسی طرح پڑھ کر مجھے سناؤ۔ وہ اسلام کا ایک مضبوط قلعہ تھے جس میں داخل ہو کر کوئی نکل نہیں سکتا تھا۔ آپ کے انتقال سے وہ قلعہ ٹوٹ کر بکھر گیا۔[1] سیّدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ایک روز آئے او ر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے۔ آپ کو آتے ہوئے دیکھ کر سیّدنا عمر نے فرمایا: علم و تفقہ سے بھری ہوئی شخصیت۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے علم سے ایسے بھرے ہوئے کہ میں اہل قادسیہ پر انہیں ترجیح دیتا ہوں ۔[2] سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں یہ تھی سیّدنا ابن مسعود تعظیم و توقیر۔ بعض مسائل ان کے اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی محبت و تعظیم میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ ان غیر معمولی واقعات سے ہمیں ایسے اُصول و آداب سیکھنے چاہئیں جو اختلافی مسائل کے حل کے لیے شمع راہ ثابت ہو سکیں ۔ ابن عباس اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کا اختلاف: صحابہ کرام کے آدابِ اختلاف کے مزید شواہد کے لیے چند اور اختلافی مسائل پیش کیے جا رہے ہیں ۔ سیّدنا ابن عباس کی رائے سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما و دیگر بہت سے صحابہ کی طرح یہ تھی کہ دادا کی موجودگی میں بھی باپ کی طرح بھائی بہنوں کی وراثت ساقط ہو جاتی ہے اور سیّدنا زید بن ثابت کی سیّدنا علی و سیّدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما اور ایک جماعت صحابہ کی طرح یہ رائے تھی کہ دادا کی موجودگی میں بھی بھائی وراثت پائے گا اور محجوب نہ ہو گا۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک روز کہا: کیا زید خدا سے نہیں ڈرتے جنہوں نے لڑکے کے لڑکے کو تو لڑکا بنا [1] الاحکام: ۶؍ ۶۱۔ [2] طبقات ابن سعد: ۴؍۱۶۱۔ و حیاۃ الصحابۃ: ۳؍۷۹۱۔