کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 62
سیّدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ نے ایک بار سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو آتے ہوئے دیکھ کر کہا: ’’میں نہیں جانتا کہ اپنے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آنے والے سے بڑا کوئی عالم کتاب و سنت چھوڑا ہو ۔ ہم جب غیر حاضر رہتے تو وہ موجود رہتے ، ہمیں جب روک دیا جاتا تب بھی انہیں اجازت رہتی ۔ ‘‘[1] سیّدنا عمر کی جلالت شان اور آپ کا تفقہ سب کو معلوم ہے ۔ سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ کے شریک کار تھے اور بہت سے اجتہاد میں آپ نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت بھی فرمائی۔ یہاں تک کہ تشریع اسلامی کے اکثرتاریخ نگار کہتے ہیں کہ آپ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سب سے زیادہ متاثر تھے۔ ان دونوں حضرات کا اجتہاد بھی یکساں ہوتا تھا۔ اور فقہی مسائل میں آپ سیّدنا عمر کی رائے کی طرف رجوع بھی کر لیتے تھے۔ جیسے دادا کی موجودگی میں بھائیوں کو بھی تیسرے اورپھر چھٹے حصہ کی تقسیم کے مسئلہ میں آپ نے کیا۔ [2] بہت سے مسائل میں ان دونوں کا اختلاف بھی تھا۔ جیسے سیّدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں کے درمیان کر لیتے تھے اور گھٹنوں پر رکھنے سے روکتے تھے ۔اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے انت علی حرام…تم مجھ پر حرام ہو۔ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے کہ یہ قسم ہے اور آپ فرماتے کہ ایک طلاق ہے … کسی عورت سے کسی شخص نے زنا کیا پھر اس سے شادی کر لی تو سیّدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق وہ جب تک ایک ساتھ رہیں زنا کار ہیں اور سیّدنا عمررضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ پہلے زنا اور بعد کا عمل نکاح سے ہو گا۔[3] شیخ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ان کے درمیان سو مختلف فیہ مسائل تھے اور ان میں سے چار کا ذکر بھی کیا ہے۔ [4] ان اختلافات کے باوجود ان دونوں حضرات کی باہمی محبت و [1] مسلم۔ الاحکام: ۶؍۶۳۔ [2] الاحکام: ۱؍۶۱۔ [3] الاحکام: ۱؍۶۱۔ [4] اعلام الموقعین: ۲؍۲۱۸۔