کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 61
کر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جواب دو۔ اس نے کہا: ہائے تباہی! عمر سے کیا مطلب؟ اور پھر ان کی طرف جب چلی تو خوف و گھبراہٹ سے راستے ہی میں دردِ زہ شروع ہوا اور وہ ایک گھر میں داخل ہو گئی جہاں اس نے ایک بچہ جنم دیا۔ لڑکا رو چیخ کر وہیں مر گیا۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں مشورہ کیا۔ بعض نے کہا آپ پر کچھ نہیں ۔ آپ ادب سکھانے اور نظام درست رکھنے والے حکمران ہیں ۔ حضر ت علیرضی اللہ عنہ خاموش تھے تو سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگر ان حضرات نے صحیح رائے ظاہر کی تو ان کی رائے غلط ہے۔ اگر آپ کی رضا مندی کے لیے ایسا کیا تو وہ آپ کے خیر خواہ نہیں ۔ میرا خیال ہے کہ اس کا خون بہا آپ کے اوپر ہے کیونکہ آپ ہی کی وجہ سے اس نے خوف زدہ ہو کر بچہ جن دیا۔ یہ سن کر سیّدنا عمررضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ یہ بچے کا خون بہا اس کی قوم میں تقسیم کر دیا جائے۔[1] سیّدنا عمر نے امیر المؤمنین ہوتے ہوئے بھی سیّدنا علی کی صائب رائے قبول فرما لی اور ان کے اجتہاد پر مکمل عمل کیا۔ جب کہ دوسرے اصحاب کی رایوں میں آپ کے لیے چھٹکارا موجود تھا۔ عمر فاروق اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے بعض اختلافات: سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کتاب اللہ کے سب سے زیادہ پڑھنے والے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ جاننے والے صحابی تھے۔ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنی رفاقت میسر رہتی کہ بہت سے صحابۂ کرام آپ کو اہل بیت میں شمار کرتے۔ سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ’’ہم ابن مسعود اور ان کی ماں کو اہل بیت میں سے سمجھتے تھے کیونکہ ان کی آمدورفت آپ کے یہاں بہت زیادہ تھی۔[2] [1] مسلم باب دیۃ الجنین: ۱۶۸۲۔ ابو داؤد ، نسائی ، ابن حبان، دیکھیں ہمارا تحریرکردہ حاشیہ المحصول : ۲؍ ق ۱ ؍ ۷۶۔ [2] مسلم۔ الاحکام: ۶؍۶۳۔