کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 59
کیا گیا ہے جس سے آپ نے یہی سمجھا کہ ان دونوں کا حکم یکساں ہے جن میں کوئی تفریق نہیں کی جا سکتی ہے۔ نماز کے انکار کو ارتداد و اتباع مدعیٔ نبوت کی دلیل سمجھنے پر اتفاق ہے تو انکار زکوٰۃ کو بھی دلیل ارتداد سمجھ کر منکرین سے جنگ کرنی چاہیے یہی وہ صحیح اجتہاد ہے جس سے سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مانعین زکوٰۃ کے ارتداد اور ان سے جنگ تاوقتیکہ وہ توبہ کر کے ادائیگی زکوٰۃ قبول نہ کر لیں ، کی فرضیت پر باقی صحابۂ کرام کو آپ نے مطمئن اور راضی کیا۔ [1] اس پیچیدہ مسئلہ کا اختلاف اس طرح ختم ہواکہ مانعین زکوٰۃ اور مرتدین سے جنگ پر صحابۂ کرام کا اتفاق ہو گیا اور دفاعِ اسلام کے لیے ان مخلصانہ سر گرمیوں کے سامنے سینہ سپر ہو گئے جو اسلام کو شکست تو نہ دے سکیں مگر وہ اس کے ایک ایک رکن کو توڑنا چاہتی تھیں ۔ اگر صدیق اکبر اور اصحاب رسولصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جرأت مندانہ موقف نہ ہوتا تو شاید اسلام کی یہ قوت و شوکت نہ ہوتی اور وہ حرمین طیبین میں محدود ہو کر رہ جاتا اور فتنہ و ارتداد سارے جزیرۃ العرب میں پھیل جاتا ۔[2] ۵۔ بعض فقہی مسائل میں اختلاف: وہ اہم معاملات جن کا اپنے وقت میں فیصلہ ہو گیا انہیں چھوڑ کر دوسرے اختلافی مسائل کا جائزہ لیں تو آدابِ اختلاف کے حیرت انگیز مناظر سامنے آتے ہیں کہ کس طرح وہ ایک دوسرے کی تعظیم و توقیر کرتے تھے۔ مذکورہ اختلافات کے علاوہ مرتد قیدی عورتوں کے مسئلہ پر سیّدنا ابو بکر صدیق و سیّدنا عمر کے درمیان اختلاف تھا۔ جس میں اپنے دورِ خلافت میں سیّدنا عمر نے سیّدنا ابو بکر کے فیصلے کے خلاف انہیں آزاد کر کے ان کے مردوں کے حوالہ کر دیا۔ سوائے ان کے جن کے مالک سے کوئی اولاد ہو گئی ہو ۔ جیسے محمد بن علی رضی اللہ عنہ کی ماں خولہ [1] سیّدنا ابو بکر و سیّدنا عرم رضی اللہ عنہ ماکے مباحثہ اور اقوال علماء کی تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں:نیل الاوطار باب الحث علی الزکوٰۃ والتشدید فی منعھا : ۴؍ ۱۷۵ وغیرہ۔ [2] البدایہ والنہایۃ : ۶؍۳۱۱و دیگر کتب تاریخ میں اس کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں ۔