کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 58
ہیں تو پھر آپ ان سے کیسے جنگ کر سکتے ہیں ؟ سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب دیا: بخدا! میں نماز و زکوٰۃ کے درمیان تفریق کرنے والوں سے جنگ کروں گا اس لیے کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے ۔ اگر وہ ان بکریوں کو بھی روک دیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے جب بھی میں ان سے جنگ کروں گا۔ سیّدنا عمر فرماتے ہیں کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما کا شرح صدر دیکھ کر میں نے سمجھ لیا کہ یہی حق اور صحیح ہے۔‘‘[1] ابن زید کہتے ہیں کہ نماز اور زکوٰۃ دونوں فرض ہیں ۔ ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں اور پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ﴾ (التوبہ: ۱۱) ’’پھر اگر وہ توبہ کر کے نماز پڑھیں ، زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں ۔‘‘ اس طرح بغیر زکوٰۃ کے نماز کی قبولیت اس نے ردّ فرما دی اور پھر انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر رحمتوں کی بارش برسائے۔ وہ کتنے بڑے فقیہ تھے۔ اس سے نمازاور زکوٰۃ میں تفریق کرنے والوں سے جنگ پر اصرار کی طرف اشارہ ہے۔ [2] سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف کا سبب یہ تھا کہ سیّدنا عمررضی اللہ عنہ اور ان کے ہم خیال اصحاب نے حدیث کے ظاہر لفظ سے یہ سمجھا کہ محض شہادتین کا اعلان کر کے اسلام قبول کر لینے سے ہی جان و مال کی امان اور ایسے کلمہ گو سے جنگ حرام ہو جاتی ہے۔ اور سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حدیث کے اس ٹکڑے ’’ إلا بحقھا‘‘ پر توجہ مرکوز کی اور زکوٰۃ کو ایسا حق مال سمجھا جس کے انکار اور عدم ادائیگی پر اصرار سے جان و مال کی حفاظت ختم ہو جاتی ہے۔ بہت سی آیات و احادیث میں نماز اور زکوٰۃ کو ایک ساتھ بیان [1] مرجع سابق : ۳؍۲۱۱۔ [2] تفسیر طبری: ۱۰؍ ۶۲۔