کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 56
اور میں نے بیعت کی۔ پھر مہاجرین نے اور انصار نے بھی بیعت کر لی۔[1] اژدہام اتنا زبردست ہوا کہ انصار کے نامزد خلیفہ سعد بن عبادہ کی جان کو خطرہ پیدا ہو گیا۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کے لیے لوگ ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے بے اختیاری اور لا علمی میں گویا ان کی جان کے درپے ہو گئے۔‘‘ [2] صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اس اختلاف کو ختم کر دیا۔ دلوں میں کوئی بغض و کینہ نہ پیدا ہونے دیا اور نہ کوئی ایسی بات باقی رہی۔ اس طرح مسلمانوں کا اتحاد برقرار رہا تاکہ پیغامِ حق و صداقت روئے زمین کے ہر گوشے میں پہنچ جائے۔ ۴۔ مانعین زکوٰۃ سے جنگ: یہ چوتھا بڑا اور اہم معاملہ تھا جس کے بارے میں صحابۂ کرام کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ اپنے حسن نیت اور اُصول و آدابِ اختلاف پر عمل کرتے رہنے کی وجہ سے اس پر بھی انہوں نے قابو پا لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت خلاف کے بعد بعض نو مسلم قبائل مرتد ہو کر مسیلمہ کذاب وغیرہ جیسے مدعیانِ نبوت کے تابع بن گئے۔ کچھ قبائل نے نماز اور زکوٰۃ ہی سے انکار کر دیا۔ اور کچھ نے صرف ادائیگی زکوٰۃ روک دی۔ کبر و نخوت کی وجہ سے سیّدنا ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کیا۔ شیطان نے انہیں یہ تاویل فاسد بتلا دی کہ شریعت میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو زکوٰۃ ادا کی جا سکتی ہے کیونکہ تحصیل زکوۃ برائے تطہیر و تزکیہ ، اور دعا کا خطاب صرف آپ ہی سے تھا: ﴿خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَ تُزَکِّیْہِمْ بِہَا وَصَلِّ عَلَیْہِمْ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ وَ اللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ o ﴾ (التوبہ: ۱۰۳) ’’ ان کے مال سے تم زکوٰۃ لو جس سے تم انہیں ستھر ااور پاک کرو اور ان کے لیے دعائے خیر کرو۔تمہاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے اور اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ [1] سیرۃ ابن ہشام: ۲؍۶۵۶۔ ۶۶۱۔ [2] مصدر سابق۔