کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 45
ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا: (( لا تختلفوا فإن من قبلکم اختلفوا فھلکوا۔)) [1] ’’ اختلاف نہ کرو تم سے پہلے کے لوگ اختلاف کر کے ہلاک ہو گئے۔‘‘ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام اور اُمت مسلمہ کو اختلاف کے نتائج بتلا کر اس سے بچتے رہنے کی تعلیم دی ہے۔ قرآنِ حکیم کے اُصول و آداب آپ نے خاص طور سے سکھلائے ہیں کہ: (( اقرؤوا القرآن ما ائتلفت علیہ قلوبکم فاذا اختلفتم فیہ فقوموا۔)) [2] ’’قرآنِ حکیم پڑھو جب تک کہ تمہارے دل ملے رہیں اور جب اس میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو اُٹھ کھڑے ہو جاؤ۔‘‘ آپ نے قرأت یا آیات کے معانی میں اختلاف کی صورت میں قرآنِ حکیم پڑھنے سے اس وقت تک کے لیے منع فرما دیا جب تک کہ احساسات و جذبات اور دل پر سکون نہ ہو جائیں اور بحث و مباحثہ کی ایسی گرمی کے اسباب جو موجب تنازع و انشقاق بن جائیں وہ ختم نہ ہو جائیں ۔ ہاں جب دل پر سکون ہو کر آپس میں مل جائیں اور فہم و شعور کی مخلصانہ خواہش جاگ اُٹھے تو پھر قراء ت و آیات میں تدبر کا آغاز کر دیں ۔ صحابۂ کرام کے درمیان جب اختلاف ہوتا تو قرآنِ حکیم بھی انہیں آدابِ اختلاف کی تعلیم دیتا۔ جیسا کہ سیّدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔انہوں نے کہا کہ دونوں اچھے آدمی یعنی سیّدنا ابو بکر صدیق و سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما ہلاکت میں پڑنے والے تھے۔ اس طرح کہ جب بنو تمیم کا ایک قافلہ آیا تو [1] الاحکام از ابن حزم … صحیح بخاری باب کراہیۃ الاختلاف : ۱۳؍۲۸۹ ، باب نزل القرآن علی سبعۃ احرف : ۹؍۲۲، ۳۶۔ [2] بخاری ، مسلم، مسند احمد، اور نسائی کما فی الجامع الصغیر : ۱؍۸۶ اور الفتح الکبیر: ۱؍۲۱۸۔