کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 36
۱۔ تاویل قریب: ادنیٰ تامل سے جسے سمجھ لیا جائے اور لفظ میں بھی اس کی گنجائش ہو۔ جیسے مال یتیم سے کسی دوسرے کو صدقہ و خیرات یا اس کی اضاعت کو کھانے کی طرح کہنا یا اس میں نسبتاً زیادہ حرمت قرار دینا۔ جیسا کہ قرآنِ حکیم میں ہے: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہِمْ نَارًا﴾ (النساء: ۱۰) ’’جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں ۔‘‘ کسی برتن کے پیشاب کو ٹھہرے ہوئے پانی میں انڈیل دیا جائے تو اسے بھی ایساہی سمجھا جائے گا جیسے براہِ راست اسی میں پیشاب پڑا ہو۔ اور اس سے یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے: (( لا یبولن احدکم فی الماء الدائم ثم یغتسل فیہ۔)) [1] کیونکہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا اور اس میں غسل کرنا دونوں کام گندگی اور جراثیم پیدا کرنے والے ہیں ۔ ۲۔ تاویل بعید: جس کے جاننے کے لیے مزید تامل کی ضرورت پڑے اور لفظ میں بھی اس تاویل کی گنجائش ہو جیسے ابن عباسرضی اللہ عنہ نے ان دونوں آیتوں سے استنباط کیا ہے کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہو سکتی ہے: ﴿وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰـثُوْنَ شَہْرًا﴾ (الاحقاف: ۱۵) ’’اس کا حمل اور دودھ چھڑانا تیس (۳۰)مہینہ میں ہے۔‘‘ ﴿وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ [1] الجامع الصغیر: ۲؍۵۰۱ متفق علیہ۔ الفتح الکبیر: ۳؍۳۵۲ ۔ ابو داؤد ، نسائی ، احمد ، ترمذی، ابن ماجہ۔