کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 31
کی شدید تاکید کی ہے۔ سیّدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اَلْخلاف شرّ [1] کہہ کر اس کی مذمت فرمائی ہے اور علامہ تقی الدین سبکی نے إن الرحمۃ تقتضی عدم الاختلاف کہہ کر اپنی رائے ظاہر فرمائی کہ تقاضائے رحمت یہ ہے کہ اختلاف نہ کیا جائے۔قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لٰکِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْہُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْہُمْ مَّنْ کَفَرَ﴾ (البقرہ: ۲۵۳) ’’لیکن ان میں اختلاف ہو گیا کوئی ایمان پر رہا اور کوئی کافر ہو گیا۔‘‘ اور حدیث شریف میں ہے: (( انما ھلکت بنو اسرائیل بکثرۃ سؤالھم واختلافھم علی انبیائھم)) [2] ’’ بنی اسرائیل اپنے انبیاء کے سلسلے میں اختلاف اور کثرتِ سوال کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ ‘‘ اس سلسلے میں بہت سی آیات و احادیث ہیں ۔ علامہ تقی الدین سبکی نے اختلاف کی تیسری قسم ( مترددبین المدح والذم) کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے: ۱۔ اختلافِ اُصول … قرآنِ حکیم میں یہی مراد ہے اور بلاشبہ یہ بدعت و گمراہی ہے۔ ۲۔ اختلافِ آراء… یہ حرام ہے کیونکہ اس میں اضاعت مصالح ہے۔ ۳۔ اختلافِ فروع … حلال و حرام وغیرہ میں پایا جانے والا اختلاف۔ [3] [1] تاویل مختلف الحدیث از ابن قتیبہ ، ص: ۲۲۔ العواصم من القواصم ، ص: ۸۔ المحصول:۲ق۱؍ ۴۸۰ [2] مکمل حدیث بطریق سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہاس طرح ہے:ذرونی ما ترکتکم فانما ہلک من کان قبلکم بکثرۃ سؤالھم ۔ واختلافھم علی انبیائھم فاذ اامرتکم بشیء فاتوا منہ ما استطعتم واذا نھیتکم عن شیء فدعوہمسند احمد، مسلم، نسائی ، ابن ماجہ ، کما فی فتح الکبیر : ۲؍۱۲۰۔ والاحکام: ۵؍۶۶۔ [3] الابھاج: ۳؍۱۳